🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 371
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ ، فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ , أَوْ رُطَبٌ، فَقَالَتْ: كُلْ، فَقُلْتُ: لا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي، فَقَالَتْ: كُلْ، فَإِنِّي أَنَا الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَجْلَسْتُهَا عَنْ يَمِينِهِ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبَ , ثُمَّ نَاوَلَهَا فطَأْطَأَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: " نَاوِلِي تِرْبَكِ"، فَقُلْتُ: بَلْ أَنْتَ، فَاشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ نَاوِلْنِي، فَشَرِبَ , ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَأَدَرْتُ الإِنَاءَ لأَضَعَ، فَمِي عَلَى مَوْضِعِ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَعْطِي صَوَاحِبَاتِكِ"، فَقُلْنَ: لا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا"، قَالَتْ: فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسْوِرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ؟"، قَالَتْ: فَأَعْتَوْنَا عَلَيْهِ حَتَّى نَزَعْنَاهُ، فَرَمَيْنَا بِهِ , فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ؟ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ، فَتُدِيفُهُ , ثُمَّ تَلَطِّخُهُ عَلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ" .
شهر بن حوشب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک تھال میری طرف بڑھایا جس میں خشک اور تازہ کھجوریں تھیں انہوں نے فرمایا: تم کھاؤ! میں نے گزارش کی: مجھے اس کی خواہش نہیں ہے تو انہوں نے بلند آواز میں مجھ سے فرمایا: تم کھاؤ! میں وہ عورت ہوں جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو شادی کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بٹھا دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں دودھ موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں۔ میں نے کہا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اسے حاصل کر لیں انہوں نے اسے لیا اور پی لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اسے اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرف بڑھا دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اسے نوش فرما لیں پھر مجھے عطا کر دیجئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا تو میں نے برتن کو گھمایا تاکہ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھوں جہاں نبی کریم نے رکھا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی سہیلیوں کو بھی دو۔“ ان خواتین نے عرض کی: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غلط بیانی اور بھوک کو جمع نہ کرو۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں میں سے ایک خاتون کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی جگہ آگ سے بنے ہوئے کنگن تمہیں پہنائے؟“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: تو ہم نے اسے اتار دیا اور ایک طرف رکھ دیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں ہو گا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا کسی عورت کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ چاندی کا بنا ہوا دانہ حاصل کرے پھر تھوڑا سا زعفران لے اور وہ دانہ اس میں ملا دے اور اسے اس میں لت پت کر دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده حسن: وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 3298، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 28208، والحميدي فى «مسنده» برقم: 371، 372، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» ، برقم: 63، 459»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت يزيد الأنصارية، أم سلمة، أم عامرصحابي
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد
Newشهر بن حوشب الأشعري ← أسماء بنت يزيد الأنصارية
صدوق كثير الإرسال والأوهام
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن النوفلي
Newعبد الله بن عبد الرحمن النوفلي ← شهر بن حوشب الأشعري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن عبد الرحمن النوفلي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 371 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:371
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کھانے پینے کے معاملات میں انسان کو صاف گو ہونا چاہیے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مہمان کو بھوک بھی ہوتی ہے، اور جھوٹ بھی بولتا رہتا ہے کہ نہیں نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 371]

Musnad al-Humaydi Hadith 371 in Urdu