مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 894
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ اعْتَمِرَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ:" فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ لَكُمَا كَحِجَّةٍ" .
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اور ایک خاتون سے فرمایا: ”تم دونوں رمضان میں عمرہ کرو کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا تمہارے لیے حج کی مانند ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4210، وأحمد فى "مسنده برقم: 16668، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13187، والطبراني فى "الكبير" برقم: 735»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يوسف بن عبد الله الإسرائيلي، أبو يعقوب | صحابي صغير | |
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن المنكدر القرشي ← يوسف بن عبد الله الإسرائيلي | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 894 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:894
فائدہ:
رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنے کو حج کے مثل کہا گیا ہے، سبحان اللہ۔ اس لیے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی ترغیب دلانی چاہیے تاکہ لوگ اس زبردست فضیلت کو حاصل کر سکیں۔ بعض لوگوں پر حج فرض ہوتا ہے، اور وہ عمرہ کو ہی اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں، یہ سراسر غلطی ہے، اور یہ بات بھی غلط ہے کہ جو شخص عمرہ کر لے اس پر حج فرض ہو جاتا ہے اگر عمرہ کی استطاعت ہے تو عمرہ فرض ہے، اس کو پہلے ادا کیا جائے لیکن اگر حج کی استطاعت ہے تو حج کا فریضہ پہلے ادا کیا جائے۔
رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنے کو حج کے مثل کہا گیا ہے، سبحان اللہ۔ اس لیے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی ترغیب دلانی چاہیے تاکہ لوگ اس زبردست فضیلت کو حاصل کر سکیں۔ بعض لوگوں پر حج فرض ہوتا ہے، اور وہ عمرہ کو ہی اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں، یہ سراسر غلطی ہے، اور یہ بات بھی غلط ہے کہ جو شخص عمرہ کر لے اس پر حج فرض ہو جاتا ہے اگر عمرہ کی استطاعت ہے تو عمرہ فرض ہے، اس کو پہلے ادا کیا جائے لیکن اگر حج کی استطاعت ہے تو حج کا فریضہ پہلے ادا کیا جائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 893]
Musnad al-Humaydi Hadith 894 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← يوسف بن عبد الله الإسرائيلي