🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر: 109
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، نا عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ، ثُمَّ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ سَيُخَلِّصُ رَجُلا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتُنكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ؟ فَبُهِتَ الرَّجُلُ، وَقَالَ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، فَإِنَّهُ لا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، فَمَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلاتُ، وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ وَلا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ قیامت والے دن میری امت کے آدمی کو تمام مخلوق کے سامنے منتخب کرے گا، اس کے آگے ننانوے رجسٹر کھول دے گا، ہر رجسٹر حد نگاہ تک ہوگا، پھر اس سے فرمائے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تجھ پر میرے حفاظت کرنے والے، لکھنے والوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، یا رب! اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر یا نیکی ہے؟ وہ آدمی انتہائی پریشانی میں مبتلا ہوگا اور کہے گا: نہیں، یا رب! وہ کہے گا: کیوں نہیں، بے شک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور یقیناً آج تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوگا، اس کے لیے ایک پرچی نکالی جائے گی، جس میں ہوگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ کہے گا کہ اپنے وزن کے پاس آ۔ وہ بولے گا: اے پروردگار! ان رجسٹروں کے سامنے اس پرچی کی کیا حیثیت ہے؟ وہ کہے گا: بے شک تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ رجسٹر ہلکے پڑ جائیں گے اور وہ پرچی وزنی ہو جائے گی، کہ اللہ کے نام سے وزنی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: «الزهد، ابن مبارک فی زیادات نعیم: 110،سنن ابن ماجة: 4300، مستدرك حاکم: 1/6، 519، مسند احمد: 3/213۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عامر بن يحيى المعافري، أبو خنيس
Newعامر بن يحيى المعافري ← عبد الله بن يزيد المعافري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عامر بن يحيى المعافري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
Musnad Abdullah bin Mubarak Hadith 109 in Urdu