🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
707. إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا
بے شک اللہ نے میری امت سے ان تمام باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے دل میں پیدا ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1115
1115 - وأنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْأُدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ، أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ، أنا ابْنُ سَيَّارٍ، نا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَنْطِقْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلّامُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے میری امت سے ان تمام باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے دل میں پیدا ہوتی ہیں جب تک وہ ان کے متعلق بات نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔“ اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے میری امت سے ان تمام باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں جب تک وہ کلام نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5269، 6664، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 127، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2209، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1183، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2040، 2044، والنسائي: 3464، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1207، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7588»
وضاحت: تشریح: -
ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ، رقمطراز ہیں:
① طیبی شارح مشکوٰۃ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ وسوسے کی دو قسمیں ہیں:
اول:۔۔۔۔
جو بغیر اختیار کے خود بخود دل میں پیدا ہو جاتا ہے، جس میں آدمی کا ذاتی ارادہ شامل نہیں ہوتا، یہ وسوسہ تمام شریعتوں میں قابل معافی ہے۔
دوم:۔۔۔۔
اپنے اختیار اور ذاتی ارادے کے ساتھ دل میں برائی کا تصور پیدا کرنا۔ یہ وسوسہ شریعت محمدیہ میں اس وقت تک قابل معافی ہے جب تک اس وسو سے والا زبانی اظہار یا جسمانی عمل نہ کر دے۔
② امت محمدیہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ [اضواء المصابيح: 101/1]

الحكم على الحديث:
صحيح


Musnad al-Shihab Hadith 1115 in Urdu