مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
843. مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ
مومن کی مثال بالی کی مانند ہے
حدیث نمبر: 1365
1365 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسْنُونَ، نا ابْنُ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، نا زَكَرِيَّا، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ يُقَلِّبُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ لَا يُفَكُّ أَصْلُهَا حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً»
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے ننھے پودے کی مانند ہے جسے ہوائیں ادھر ادھر کرتی رہتی ہیں کبھی اسے پچھاڑ دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے جو سیدھا کھڑا رہتا ہے اس کی جڑ (زمین سے) جدا نہیں ہوتی یہاں تک کہ ایک ہی بار جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، نصر بن عبد العزیز کی توثیق نہیں ملی۔
وضاحت: تشریح: -
مؤمن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ان سے متاثر ہونے والا صرف مومن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرز حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی تو نہیں ہوگئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیے یہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متاثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ ٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کا، حتی ٰکہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے اور اس کی زندگی کی شام ہو جاتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ملتے نہیں دیکھا
[احاديث صحيحه: 2 111]
مؤمن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ان سے متاثر ہونے والا صرف مومن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرز حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی تو نہیں ہوگئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیے یہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متاثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ ٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کا، حتی ٰکہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے اور اس کی زندگی کی شام ہو جاتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ملتے نہیں دیکھا
[احاديث صحيحه: 2 111]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
Musnad al-Shihab Hadith 1365 in Urdu