مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
871. رُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ
کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں سوائے رات بھر جاگنے کے کچھ نہیں ملتا
حدیث نمبر: 1426
1426 - وأنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأَبْلَةِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے میں سے بھوک اور پیاس کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام میں سے رات بھر جاگنے کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1997، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3481، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1576، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2762، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1690، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8402، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8978»
وضاحت: تشریح: -
جو شخص حالت روز ہ میں غیبت گالم گلوچ اور بے ہودہ گوئی سے باز نہ آئے یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے پھر ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں یا مغضوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه: 3 445]
جو شخص حالت روز ہ میں غیبت گالم گلوچ اور بے ہودہ گوئی سے باز نہ آئے یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے پھر ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں یا مغضوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه: 3 445]
الحكم على الحديث:
صحيح
Musnad al-Shihab Hadith 1426 in Urdu