🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
329. مَنْ فَرَّجَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى أَخِيهِ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ
جس نے اپنے بھائی سے دنیاوی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی اللہ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا اور جس نے اپنے بھائی کی عیب پوشی کی اللہ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا اور الله اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
478 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، نا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرْضِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، نا جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ أَبُو مُحَمَّدٍ، نا سَحْنُونُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ التَّنُوخِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ عز و جل اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوعثمان سعید بن محمد بن ابی موسیٰ ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک سائل کھڑا ہوا، اس نے آپ سے سوال کیا لیکن آپ نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سائل سے منہ نہیں پھیرا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس سے کسی غرض و مصلحت کے تحت ہی منہ پھیرا ہے، میں یہ چاہ رہا تھا کہ تم میں سے کوئی اس کے لیے سفارش کر دیتا تاکہ اسے بھی اجر مل جاتا، کیونکہ اللہ عزوجل مسلمان کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے اور جسے یہ بات پسند ہو کہ اسے پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دیکھے کہ اس کے نزدیک اللہ کا کیا مقام و مرتبہ ہے کیونکہ اللہ بھی بندے کو اسی مقام پر رکھتا ہے جہاں بندہ اپنے رب کو رکھتا ہے۔“ [شعب الايمان: 2447، وسندہ صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف


Musnad al-Shihab Hadith 478 in Urdu