مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
337. مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے گویا زندہ درگور کی ہوئی بچی کو اس کی قبر سے نکال کر زندہ کر دیا
حدیث نمبر: 490
490 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا ابْنُ الصَّاغَانِيِّ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَلَا نَرْفَعُهُمْ؟، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا. الْحَدِيثُ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا: ہمارے کچھ ہمسائے ہیں جو شراب پیتے ہیں کیا ہم انہیں اٹھا کر (پولیس کے) حوالے کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے (کسی مسلمان میں) کوئی عیب دیکھا پھر اس پر پردہ ڈال دیا۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الاعرابي: 2438، وأبو داود: 4892، وأحمد: 4/ 147»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
Musnad al-Shihab Hadith 490 in Urdu