مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
427. تَهَادَوْا تَحَابُّوا
آپس میں تحائف دیا کرو باہمی محبت پیدا ہوگی
حدیث نمبر: 657
657 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِيُّ، بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ ضِمَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَهَادَوْا تَحَابُّوا» فَقَالَ: هُوَ بِالتَّشْدِيدِ مِنَ الْحُبِّ، وَأَمَّا بِالتَّخْفِيفِ فَهُوَ مِنَ الْمُحَابَاةِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں تحائف دیا کرو باہمی محبت پیدا ہو گی۔“ (راوی حدیث ابوشنجی نے) کہا: «تحابوا» حرف ”ب“ کی شد سے ہے جس کا مصدر «حب» ہے اور اگر یہ تخفیف کے ساتھ پڑھا جائے تو «محاباة» سے مشتق ہو گا۔ (بمعنی طرفداری کرنا) [مسند الشهاب/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه معرفة علوم الحديث: 173»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیتے رہنا با ہمی محبت کو والفت کا ذریعہ ہے اس سے بغض وعداوت کے جذبات ختم ہوتے ہیں اور آپس میں پیار اور محبت کی فضا قائم ہوتی ہے لہٰذا گاہے بگاہے حسب استطاعت ایک دوسرے کو تحفے دیتے رہنا چاہیے تا کہ نفرت اور عداوت کی بیماریاں ختم ہوں اور محبت والفت کی فضا قائم ہو۔
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیتے رہنا با ہمی محبت کو والفت کا ذریعہ ہے اس سے بغض وعداوت کے جذبات ختم ہوتے ہیں اور آپس میں پیار اور محبت کی فضا قائم ہوتی ہے لہٰذا گاہے بگاہے حسب استطاعت ایک دوسرے کو تحفے دیتے رہنا چاہیے تا کہ نفرت اور عداوت کی بیماریاں ختم ہوں اور محبت والفت کی فضا قائم ہو۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Musnad al-Shihab Hadith 657 in Urdu