🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
480. لِيَكُنْ بَلَاغُ أَحَدِكُمْ فِي الدُّنْيَا زَادَ الرَّاكِبِ
تم میں سے ہر شخص کا دنیا میں اتنا ہی خرج وحصہ ہونا چاہیے جتنا کہ ایک سوار کا تو شہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 728
728 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَحُمَيْدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَابْنَ مَسْعُودٍ دَخَلَا عَلَى سَلْمَانَ يَعُودَانِهِ، فَبَكَى سَلْمَانُ، فَقَالَا لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟، قَالَ: عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحْفَظْهُ مِنَّا أَحَدٌ، قَالَ: وَذَكَرَ: «لِيَكُنْ بَلَاغُ أَحَدِكُمْ مِنَ الدُّنْيَا زَادَ الرَّاكِبِ»
سعید بن مسیب اور مورق عجلی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہما اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے گئے تو سلمان رو پڑے، انہوں نے ان سے کہا: اے ابوعبد اللہ! آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے کہا: اس عہد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے لیا تھا، لیکن ہم میں سے کسی نے اس کی پاسداری نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔ اور انہوں نے بیان کیا: تم میں سے ہر شخص کا دنیا میں اتنا ہی خرچ و حصہ ہونا چاہیے جتنا کہ ایک سوار کا توشہ ہوتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه المعجم الكبير: 6160، تهذيب الاثار: 440، وابن ماجه: 4104،عن انس»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی اور فکر آخرت کا درس ہے کہ ہر وقت دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے آخرت کی فکر کرنی چاہیے، متاع دنیا میں سے اتنا سامان کہ جس سے زندگی کا پہیہ چل سکے لینے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ لینا بوجھ ہے۔ ایک مسافر سفر پر روانہ ہوتے وقت صرف اپنی ضرورت کا سامان اٹھاتا ہے، ضرورت سے زیادہ اٹھائے گا تو تکلیف میں مبتلا ہو گا، چونکہ یہ دنیا بھی ایک مسافر خانہ ہے، یہاں کا ہر شخص مسافر ہے، لہٰذا وہ جائز ذرائع سے اتنا مال تو حاصل کر لے جس سے اس کی گزر بسر ہو سکے لیکن اس مال کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائے کہ مقصد حیات تو اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح


Musnad al-Shihab Hadith 728 in Urdu