مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
550. لا صرورة فى الإسلام
اسلام میں صرورہ (گوشہ نشینی اختیار کرنا، شادی نہ کرنا یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا) نہیں
حدیث نمبر: 843
843 - أنا ذُو النُّونِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو الْقَاسِمِ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّقَطِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ»
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورہ نہیں ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «مرسل، شرح مشكل الآثار: 1283»
اسے عکرمہ تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
اسے عکرمہ تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔“ [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔“ [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]
Musnad al-Shihab Hadith 843 in Urdu