مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
558. لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ
اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے (یعنی اس معاملے میں دو رائے نہیں ہیں)
حدیث نمبر: 857
857 - أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ السَّاكِنُ، كَانَ بِبِلْبِيسَ إِجَازَةً، نا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي خَطْمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ذَلِكَ، وَقَالَ: «مَنْ لِي بِهَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهَا: أَنَا لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَتْ تَمَّارَةٌ تَبِيعُ التَّمْرَ، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: هَلْ عِنْدَكِ تَمْرٌ؟ فَقَالَتْ نَعَمْ، فَأَرَتْهُ تَمْرًا، فَقَالَ أَرَدْتُ أَجْوَدَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَدَخَلَتِ التُّرْبَةَ، قَالَ: فَدَخَلَ خَلْفَهَا، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمْ يَرَ إِلَّا خِوَانًا، قَالَ: فَعَلَا بِهِ رَأْسَهَا حَتَّى دَمَغَهَا بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَفَيْتُكَهَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ» ، فَأَرْسَلَهَا مَثَلًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی خطمہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی، آپ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ کو سخت غصہ آیا، فرمایا: ”میرا اس سے انتقام کون لے گا؟“ اس عورت کی قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے آپ کا انتقام لوں گا۔ وہ عورت کھجوریں بیچا کرتی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ وہ آدمی اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے اسے کھجوریں دکھائیں تو اس آدمی نے کہا: میں ان سے عمدہ کھجوریں چاہتا ہوں۔ وہ (کھجوریں لانے) گھر میں داخل ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے ہی داخل ہو گیا، اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اسے کھانے کی میز کے سوا کچھ نظر نہ آیا، اس نے وہی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری حتیٰ کہ اس کا بھیجہ باہر نکال دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اسے آپ کی طرف سے کافی ہو گیا ہوں تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں دو بکریوں کے سر بھی نہیں ٹکرائیں گے۔“ یوں آپ نے اس فرمان کو ضرب المثل بنا دیا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الكامل لابن عدى:، تاريخ مدينة السلام:119/15»
مجالد بن سعید ضعیف اور محمد بن حجاج سخت ضعیف ہے۔
مجالد بن سعید ضعیف اور محمد بن حجاج سخت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
Musnad al-Shihab Hadith 857 in Urdu