🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
570. لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا
کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
879 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ الْحُرِّ بْنِ سَعْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْجَارُودِ الرَّقِّيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، أحمد بن عبد الرحمٰن بن جارود کذاب ہے۔
وضاحت: تشریح: -
یہ تفصیلی واقعہ یوں ہے کہ کسی صحابی نے کسی آدمی کا ترکش اٹھا کر غائب کر دیا تاکہ اس سے مذاق کریں اس نے جب وہ طلب کیا تو اسے گم پایا چنانچہ وہ شخص اس سے پریشان ہو گیا یہ دیکھ کر اس کے ساتھی ہنسنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے پوچھا: کہ کیوں ہنس رہے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! فلاں شخص کا ترکش ہم نے محض اس لیے اٹھایا تاکہ اس سے مذاق کریں لیکن وہ اس سے پریشان ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے (اور پریشان کرے)۔“ [شرح مشكل الآثار: 1625، وسنده حسن]
اس واقعہ سے پتا چلا کہ ہنسی مذاق میں بھی کسی کو ڈرانا جائز نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ ڈرنے سے وہ مر جائے یا بیمار پڑ جائے۔ خوش طبعی صرف وہی جائز ہے جس سے کسی کو پریشانی لاحق نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا


Musnad al-Shihab Hadith 879 in Urdu