🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب فِي خَرْصِ الْعِنَبِ
باب: درختوں پر انگور کا تخمینہ (اندازہ) لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَتَّابٍ شَيْئًا.
ابن شہاب سے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1604]
محمد بن صالح التمار نے ابن شہاب سے ان کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید (ابن مسیب) نے سیدنا عتاب رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:9748) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ عتاب رضی اللہ عنہ کی وفات (۱۳ھ) میں اور سعید کی پیدائش (۱۵ھ) میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[1603] إسناده ضعيف
ترمذي (644) نسائي (2619) ابن ماجه (1819)
قال المنذري :’’ انقطاعه ظاهر،لأن مولد سعيد في خلافة عمر ومات عتاب يوم مات أبوبكر‘‘ (انظر عون المعبود 24/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن صالح التمار، أبو عبد الله
Newمحمد بن صالح التمار ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن نافع المخزومي، أبو محمد
Newعبد الله بن نافع المخزومي ← محمد بن صالح التمار
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن إسحاق المسيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إسحاق المسيبي ← عبد الله بن نافع المخزومي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1604 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1604
1604. اردو حاشیہ: چونکہ انگور کھجوریں اور دیگر پھل آہستہ آہستہ تیار ہوتے اور استعمال میں آتے رہتے ہیں۔اس لئے ان کے عشرکےلئے یہ قاعدہ ہے۔ کہ تجربہ کار اصحاب نظر سے اندازہ لگوایا جاتا ہے۔جو درختوں پر لگے کچے پھل کودیکھ کر بتاتے ہیں کہ تیار ہونے پر یہ پھل اندازاً اس مقدار کا ہوگا۔اسے عربی میں (خرص) اوراُردو میں اندازہ اور تخمینہ لگانا کہتے ہیں۔اوراس اندازہ کئے وزن میں تہائی یا چوتھائی چھوڑ کر باقی پرعشر لاگو کیا جاتا ہے۔مندرجہ بالا دونوں روایات انفرادی طور پرضعیف مگر دیگرشواہد سے قابل عمل ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔(ارواۃ الغلیل۔280/3 حدیث 805]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1604]

Sunan Abi Dawud Hadith 1604 in Urdu