🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب في التزويج على العمل يعمل
باب: کام کے عوض نکاح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ، قَالَ: وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: لَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2113]
محمد بن راشد نے مکحول سے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت کی مانند بیان کیا، مکحول کہا کرتے تھے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کے لیے روا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19478) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ روایت مرسل ہے، مکحول صحابی نہیں تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
إسناده حسن إلي مكحول، وھذا من قوله


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوبثقة فقيه كثير الإرسال
👤←👥محمد بن راشد الخزاعي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newمحمد بن راشد الخزاعي ← مكحول بن أبي مسلم الشامي
ثقة
👤←👥زيد بن أبي الزرقاء التغلبي، أبو محمد
Newزيد بن أبي الزرقاء التغلبي ← محمد بن راشد الخزاعي
ثقة
👤←👥هارون بن زيد التغلبي، أبو موسى
Newهارون بن زيد التغلبي ← زيد بن أبي الزرقاء التغلبي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2113 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2113
فوائد ومسائل:
1: پہلی حدیث (2111) میں اس محترمہ خاتون کا اپنے آپ کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور ہبہ پیش کرنا ایک عظیم ترین شرف حاصل کرنے کی کوشش تھی جو کامیاب نہ ہو سکی مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم از خود اس کے لئے ولی بن گئے اور ایک صاحب قرآن سے اس کا نکاح کر دیا اور مسئلہ ہبہ صرف اور صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محضوص ہے، کسی اور کے لئے نہیں۔
سورۃ احزاب میں ہے: (وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ) (الأحزاب: 50) اور ایمان دا ر عورت جو اپنا نفس نبی کو ہیبہ کر دے، اس صورت میں کہ نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف آپ کے لئے ہے اور مومنوں کے لئے نہیں۔

2: حق مہر مال کی صورت میں ہونا ہی اولی ہے، کم سے کم مقدار بھی اس مقصد کو پورا کر دیتی ہے اور ایسی تمام روایات جو پانچ یا دس درہم وغیرہ کو متعین کرنے کے بارے میں آئی ہیں تا قابل حجت ہیں۔

3: اس میں یہ بھی ہے کہ ازحد فقیر کنگال کا بھی نکاح کیا جا سکتا ہے۔

4: اور تعلیم کو بھی حق مہر بنایا جا سکتا ہے، امام شافعی، امام احمد ؒ اور ان کے اصحاب اسی کے قائل ہیں، متحدہ ہندوستان میں تحریک جہاد کے موسسین نے اس سنت کو زندہ کیا تھا۔
مولانا ولایت علی ؒ نے جنہوں نے شاہ اسماعیل شہید ؒ کے بعد تحریک جہاد کی قیادت سنبھالی اور اس راہ میں بے مثال قربانی اور عزیمت کا نمونہ پیش کیا، متحدہ ہند میں احیائے سنت کے سلسلے میں بھی بڑے سرگرم رہے۔
نکاح بیوگان کے سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک شخص عبد الغنی انگر نہسوی (جو زمرہ مساکین میں سے تھے) کا عقد ایک بیوہ عورت سے تعلم قرآن مہر قرار دے کر کر دیا۔
(ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک) امام ابو حنیفہ اور امام مالک ؒ اس کے قائل نہیں ہیں، جیسے کہ آخری اثر میں جنات مکحول ؒ سے منقول ہوا ہے مگر یہ قول مرجوع ہے۔

5: کوئی خاتون اپنژ نکاح کے سلسلے میں جنبانی کرے تو کوئی عیب کی بات نہیں ہے ایسے ہی کوئی ولی اپنی زیر تولیت لڑکی کے لئے رشتے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے از خو دکسی سے بات کرے تو یہ بھی عیب والی بات نہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2113]

Sunan Abi Dawud Hadith 2113 in Urdu