🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب في تعظيم الزنا
باب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ:" غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ".
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» (النور: ۳۳) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
معتمر اپنے والد (سلیمان تیمی) سے بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ ﴿وَمَنْ يُكْرِهُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة النور: 33] کی تفسیر میں سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجبور کردہ لونڈیوں کے لیے غفور رحیم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18689) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن يسار الأنصاريثقة
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← سعيد بن يسار الأنصاري
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2312 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2312
فوائد ومسائل:
یہ ایک تابعی قول ہے، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے پاس کئی لونڈیاں تھیں، ان میں سے ایک کا نام مسیکہ تھا وہ ان سے بدکاری کرا کے آمدنی حاصل کرتا تھا۔
ان لونڈیوں نے اسلام قبول کرلیا تو اس عمل شنیع سے انکار کرنے لگیں، مگر وہ ان پر جبر کرتا تھا توا سی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی زنا ویسے ہی انتہائی قبیح اور بے حیائی کا کام ہے تواس کام کے لئے کسی مجبور کرنا اور بھی برا ہے، البتہ جس پر زبردستی کی گئی ہو اس کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے معافی ہے، مگر جبر کرنے والا اپنے آپ کو کیسے بچا سکے گا؟
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2312]

Sunan Abi Dawud Hadith 2312 in Urdu