سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب نسخ قوله { وعلى الذين يطيقونه فدية }
باب: آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2316
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، فَكَانَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِطَعَامِ مِسْكِينٍ افْتَدَى وَتَمَّ لَهُ صَوْمُهُ، فَقَالَ: فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 184، وقَالَ: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ سورة البقرة آية 185".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص ایک مسکین کا کھانا فدیہ دینا چاہتا دے دیتا اور اس کا روزہ مکمل ہو جاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم» (سورۃ البقرہ: ۱۸۴) ”پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے“، پھر فرمایا: «فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر» (سورۃ البقرہ: ۱۸۵) ”تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2316]
عکرمہ سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ ”جو کوئی ایک مسکین کا فدیہ دینا چاہتا، دے دیتا تھا اور اس کا روزہ پورا اور کامل سمجھا جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 184] ”جو خوشی سے بھلائی کرے (مسکین کو کھانا کھلائے) تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔“ اور فرمایا: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 185] ”جو شخص اس مہینے میں حاضر ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کرے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6255) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2316 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي