سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2491
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَاتَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُصَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ۱؎، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2491]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء تشریف لے جاتے، تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں بھی جاتے اور وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ آپ ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا اور پھر بیٹھ کر آپ کے سر سے جوئیں تلاش کرنے لگیں۔ اور یہی مذکورہ حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بنت ملحان کی وفات قبرص میں ہوئی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 3 (2788)، الاستئذان 41 (6282)، التعبیر 12 (7001)، صحیح مسلم/الجہاد 49 (1912)، سنن الترمذی/الجھاد 15 (1645)، سنن النسائی/الجھاد 40 (3173)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 18 (39)، (تحفة الأشراف: 199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/240) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں یا آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2788، 2789) صحيح مسلم (1912)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة حجة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2491 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2491
فوائد ومسائل:
1۔
ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ام حرام رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محارم میں سے تھیں۔
کچھ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ بتایا ہے۔
اور کئی کہتے ہیں۔
یہ آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
2۔
نبی کا خواب اور پیشن گویئاں سب وحی پر مبنی ہوتی ہیں۔
3۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خواب میں آپ کو کوئی دوسرے لوگ دکھائے گئے تھے۔
اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حرام سے فرمایا۔
کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہوگی۔
4۔
سفر جہاد میں موت جس کیفیت میں بھی آئے مبارک ہوتی ہے۔
5۔
اس میں یہ پیش گوئی تھی کہ یہ امت بر (خشکی) کے علاوہ بحر (سمندر) میں بھی جہاد کرے گی جوکہ ثابت ہے۔
1۔
ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ام حرام رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محارم میں سے تھیں۔
کچھ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ بتایا ہے۔
اور کئی کہتے ہیں۔
یہ آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
2۔
نبی کا خواب اور پیشن گویئاں سب وحی پر مبنی ہوتی ہیں۔
3۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خواب میں آپ کو کوئی دوسرے لوگ دکھائے گئے تھے۔
اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حرام سے فرمایا۔
کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہوگی۔
4۔
سفر جہاد میں موت جس کیفیت میں بھی آئے مبارک ہوتی ہے۔
5۔
اس میں یہ پیش گوئی تھی کہ یہ امت بر (خشکی) کے علاوہ بحر (سمندر) میں بھی جہاد کرے گی جوکہ ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2491]
Sunan Abi Dawud Hadith 2491 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري