🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ
باب: رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ 0، كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى:وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ”جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو“ (سورۃ النساء: ۳۳) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت: «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ”اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں“ (سورۃ الانفال: ۷۵) سے منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2921]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیتِ کریمہ ﴿وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] کی تفسیر میں بیان کیا: ”ایک آدمی دوسرے کا حلیف بن جاتا تھا، جبکہ ان میں کوئی نسبی قرابت نہ ہوتی تھی، پھر ہر ایک دوسرے کا وارث بھی ہوتا تھا، تو اس حکم کو سورۃ الانفال نے منسوخ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”رشتے ناتے والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں۔“” [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6261) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
6071 12427 13041

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي سعيد النحوي، أبو الحسن
Newيزيد بن أبي سعيد النحوي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← يزيد بن أبي سعيد النحوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن الحسين القرشي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسين القرشي ← الحسين بن واقد المروزي
مقبول
👤←👥أحمد بن شبوية الخزاعي، أبو الحسن
Newأحمد بن شبوية الخزاعي ← علي بن الحسين القرشي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2921 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2921
فوائد ومسائل:
فائدہ: ابتدائے ایام ہجرت میں جب مملکت اسلام مدینہ منورہ میں اپنا وجود پکڑ رہی تھی۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات (بھائی چارے) کا نظام قائم فرمایا تھا۔
یعنی ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصاری کا بھائی بنا دیا۔
تاریخی اعتبار سے یہ ایک منفرد اور فقید المثال تجربہ تھا۔
جو نہ اس سے پہلے کبھی سننے میں آیا اور نہ شائد آئندہ کبھی ہو۔
اس مواخات کی بناء پریہ منہ بولے بھائی دوسرے نسبی قرابت داروں کی بجائے ایک دوسرے کے وارث بننے لگے۔
سورہ نساء میں اس کا ذکر اس طرح ہے۔
(وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) (النساء:33) ماں باپ یا قرابت دار جو کچھ چھوڑ جایئں، اس سے ہر ایک کے ہم نے وارث مقرر کر دیے ہیں اور جن سے تم نے اپنے معاہدہ کیا ہے۔
پس ان سب کو ان کا حصہ دو، مگر وراثت کا یہ حکم تھوڑے عرصے کے بعدمنسوخ کردیا گیا۔
اور سورۃ الانفال میں فرمایا گیا۔
(وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ ۗ) (الأنفال:75) اور رشتے ناطے والے اللہ کی کتاب کے اندر ایک دوسرے کے زیادہ نزدیک ہیں۔
اسی طرح حلف کی وراثت کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ اسلام سے قبل دو اشخاص یا دو قبیلوں کے درمیان ایک دوسرے کی مدد کےلئے معاہدہ اور حلف ہوتا تھا۔
اور اسلام کے بعد بھی یہ سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا تھا۔
اسی آیت سے یہ طریقہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔
مگر عمومی نصرت واخوت اسلامی اور وصیت کے ذریعے سے مدد کرنا باقی ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کرجب کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو حلیف وارث ہوگا۔
بعض نے کہا کہ حلیف نہیں، بلکہ ایسے آدمی کی وراثت بیت المال میں جائے گی۔
قراءت حفص مفص میں جس کے مطابق اس وقت قرآن پڑھا جاتا ہے (عقدتْ ہے) لیکن بعض روایات میں (عاقدتْ پڑھا جاتا ہے) اس حدیث میں بھی یہ لفظ عاقدتْ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2921]

Sunan Abi Dawud Hadith 2921 in Urdu