🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. باب من قال تغتسل من طهر إلى طهر
باب: مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے (یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ،وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا، وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، مَوْقُوفٌ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا، أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ، وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَالْمُغِيرَةُ، وَفِرَاسٌ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ،وَرِوَايَةَ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ، تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً، وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ، إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ، وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْغُسْلُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث (جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے)، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث (جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے)، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 300]
جناب مسروق کی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے مانند بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مذکورہ الصدر روایات عدی بن ثابت، اعمش، حبیب اور ایوب ابوالعلاء سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں۔ اعمش بواسطہ حبیب کی حدیث (مذکورہ 298) ضعیف ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حفص بن غیاث، اعمش سے موقوف بیان کرتے ہیں اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسباط نے اعمش سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابن داود نے اعمش سے صرف پہلا حصہ مرفوع روایت کیا ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ اس میں ہر نماز کے لیے وضو کا بیان ہو۔ حبیب کی اس حدیث کے ضعیف ہونے کی (دوسری) دلیل یہ بھی ہے کہ «الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ» کی مستحاضہ والی روایت میں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ جب کہ ابوالیقظان نے بہ سند «عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ» اور عمار مولیٰ بنی ہاشم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور عبدالملک بن میسرہ، بیان بن بشر، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے حدیثِ قمیر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ داود اور عاصم کی روایت میں جو «عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ» سے مروی ہے کہ ہر روز ایک غسل کرے۔ جب کہ «هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ» کی روایت ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔ اور یہ سب احادیث ضعیف ہیں، سوائے (ان تین احادیث کے یعنی) حدیثِ قمیر (زوجہ مسروق)، حدیثِ عمار مولیٰ بنی ہاشم اور حدیث «هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ» اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معروف قول غسل کا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17958و17989) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ایوب ضعیف ہیں، دوسری حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)
وضاحت: ۱؎: مؤلف کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب کے طریق سے روایت کیا ہے دو وجہوں سے ضعیف ہے ایک یہ کہ حفص بن غیاث نے بھی اسے اعمش سے روایت کیا ہے ؛ لیکن انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف قرار دیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے، اور اسباط بن محمد نے بھی اسے اعمش سے موقوفاً ہی روایت کیا ہے اور خود اعمش نے بھی صرف اس کے ابتدائی حصہ کو مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ذکر کا انکار کیا ہے، دوسری یہ کہ حبیب بن ثابت نے زہری کی مخالفت کی ہے کیونکہ زہری نے اپنی روایت میں (جسے انہوں نے بواسطہ عروہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے) ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا ذکر کیا ہے اور حبیب کی روایت میں ہر نماز کے لئے وضو کا ذکر ہے۔ وضاحت: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مؤلف نے اس باب میں نو روایتیں ذکر کی ہیں جن میں سے تین مرفوع، چھ موقوف ہیں، یہ ساری روایتیں ضعیف ہیں سوائے ان تین آثار کے جن کا ذکر انہوں نے آخر میں کیا ہے (تینوں مرفوع روایات بھی متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر معناً صحیح ہیں)۔
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥قمير بنت عمرو الكوفية
Newقمير بنت عمرو الكوفية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد الله بن شبرمة الضبي، أبو شبرمة
Newعبد الله بن شبرمة الضبي ← قمير بنت عمرو الكوفية
ثقة
👤←👥أيوب بن أبي مسكين التميمي، أبو العلاء
Newأيوب بن أبي مسكين التميمي ← عبد الله بن شبرمة الضبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← أيوب بن أبي مسكين التميمي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 300 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 300
300۔ اردو حاشیہ:
حدیث قمیر، حدیث عمار اور حدیث ہشام، تینوں میں ہر نماز کے لیے صرف وضو کرنے کا حکم ہے، غسل کرنے کا یا دو نمازوں کے لیے ایک غسل کرنے کا نہیں۔ اس لیے مستحاضہ عورت صرف طہر کے وقت غسل کرے گی، اس کے بعد ہر نماز کے لیے صرف وضو کرنا اس کے لیے کافی ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 300]

Sunan Abi Dawud Hadith 300 in Urdu