🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب مَا جَاءَ فِي خَبَرِ مَكَّةَ
باب: فتح مکہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ غَنِمُوا يَوْمَ الْفَتْحِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا.
وہب (وہب بن منبہ) کہتے ہیں میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3023]
سے پوچھا کہ کیا فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں نے کوئی غنیمت حاصل کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3135) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥وهب بن منبه الأبناوي، أبو عبد الله
Newوهب بن منبه الأبناوي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عقيل بن معقل اليماني
Newعقيل بن معقل اليماني ← وهب بن منبه الأبناوي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن عقيل اليماني، أبو إبراهيم
Newإبراهيم بن عقيل اليماني ← عقيل بن معقل اليماني
ثقة
👤←👥إسماعيل بن عبد الكريم اليماني، أبو هشام
Newإسماعيل بن عبد الكريم اليماني ← إبراهيم بن عقيل اليماني
ثقة
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي
Newالحسن بن الصباح الواسطي ← إسماعيل بن عبد الكريم اليماني
صدوق حسن الحديث
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3023 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3023
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے بعض علماء کا استدلال ہے۔
کہ مکہ کی فتح بطور صلح ہوئی تھی۔
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ نہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر احسا ن تھا۔
اور یہی بات صحیح ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارض مقدس کو غنیمت یا فے قرار دینا گوارار نہ فرمایا۔
یہ ابتداء ہی سے اللہ کے دین کا مرکز تھا۔
اور یہیں سے وحی کا آغاز ہوا۔
یہیں وہ اولین جماعت بنی جو امت کا مرکز تھی۔
اسلام اور مسلمانوں کی یہاں واپسی کو اپنے ہی گھر کی طرف واپسی کے طور پر لیا گیا۔
یہاں کے باشندے جب اسلام میں داخل ہوگئے تو پورے اخلاص کے ساتھ داخل ہوئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3023]

Sunan Abi Dawud Hadith 3023 in Urdu