سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي أَرْضِ الْخَرَاجِ
باب: خراج کی زمین میں رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا (یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا (یعنی اس نے اچھا نہ کیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3081]
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”جس نے اپنی گردن میں جزیے کا قلادہ ڈالا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11372) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی محمد بن عیسیٰ سیٔ الحفظ ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم أبو عبد اللّٰه الخزاعي لم أجد من وثقه وھو مقبول (أي مجهول الحال) انظر التقريب (6658) وفي سماعه من معاذ رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
إسناده ضعيف
مسلم أبو عبد اللّٰه الخزاعي لم أجد من وثقه وھو مقبول (أي مجهول الحال) انظر التقريب (6658) وفي سماعه من معاذ رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أبو عبد الله الأشعري، أبو عبد الله أبو عبد الله الأشعري ← معاذ بن جبل الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥زيد بن واقد القرشي، أبو عمرو، أبو عمر زيد بن واقد القرشي ← أبو عبد الله الأشعري | ثقة | |
👤←👥محمد بن عيسى القرشي، أبو الحكم، أبو سفيان محمد بن عيسى القرشي ← زيد بن واقد القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥هارون بن محمد العاملي هارون بن محمد العاملي ← محمد بن عيسى القرشي | صدوق حسن الحديث |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3081 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3081
فوائد ومسائل:
کفار اپنی زیرکاشت زمینوں سے جو حصہ ادا کرتے ہیں۔
خراج کہلاتا ہے۔
اور علماء نے ایسی زمینوں کی کئی قسمیں لکھی ہیں۔
1۔
مسلمانوں نے کسی زمین کو بذور قوت فتح کیا ہو۔
امام نے اسے مجاہدین میں تقسیم کردیا ہو۔
پھر امام اسے قیمت دے کر ان سے خرید لے اور عام مسلمانوں کے لئے وقف کردے۔
اور کفار کو خراج (ٹھیکے) پر دے دے جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق کے دہیاتوں میں کیا تھا۔
2۔
کسی زمین کو صلح سے فتح کیا گیا ہو۔
اس شرط پر کے زمین مسلمانوں کی ہوگی۔
مگر کفار اس میں رہیں گے۔
اور خراج دیں گے۔
یہ زمین مال فے ہوگی۔
اور خراج اس کا کرایہ اجرت یا ٹھیکہ ہوگا۔
جو ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے سے ساقط نہیں ہوگا۔
3۔
کوئی علاقہ اس شرط کے ساتھ صلح سے فتح ہوا ہو کہ زمین کفار کی رہے گی۔
مگر وہ خراج ادا کر کے وہاں مقیم رہیں گے۔
ایسے خراج کو جزیہ پر قیاس کیا جائے گا۔
اور ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے پر ختم ہوجائے گا۔
کفار اپنی زیرکاشت زمینوں سے جو حصہ ادا کرتے ہیں۔
خراج کہلاتا ہے۔
اور علماء نے ایسی زمینوں کی کئی قسمیں لکھی ہیں۔
1۔
مسلمانوں نے کسی زمین کو بذور قوت فتح کیا ہو۔
امام نے اسے مجاہدین میں تقسیم کردیا ہو۔
پھر امام اسے قیمت دے کر ان سے خرید لے اور عام مسلمانوں کے لئے وقف کردے۔
اور کفار کو خراج (ٹھیکے) پر دے دے جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق کے دہیاتوں میں کیا تھا۔
2۔
کسی زمین کو صلح سے فتح کیا گیا ہو۔
اس شرط پر کے زمین مسلمانوں کی ہوگی۔
مگر کفار اس میں رہیں گے۔
اور خراج دیں گے۔
یہ زمین مال فے ہوگی۔
اور خراج اس کا کرایہ اجرت یا ٹھیکہ ہوگا۔
جو ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے سے ساقط نہیں ہوگا۔
3۔
کوئی علاقہ اس شرط کے ساتھ صلح سے فتح ہوا ہو کہ زمین کفار کی رہے گی۔
مگر وہ خراج ادا کر کے وہاں مقیم رہیں گے۔
ایسے خراج کو جزیہ پر قیاس کیا جائے گا۔
اور ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے پر ختم ہوجائے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3081]
Sunan Abi Dawud Hadith 3081 in Urdu
أبو عبد الله الأشعري ← معاذ بن جبل الأنصاري