🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب في الشفعة
باب: شفعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الْأَرْضِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3517]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ، ہمسائے کے گھر یا زمین کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 31 (1368)، (تحفة الأشراف: 4588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 13، 18) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3517
جار الدار أحق بدار الجار أو الأرض
بلوغ المرام
762
جار الدار أحق بالدار
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3517 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3517
فوائد ومسائل:

شفعہ شفع سے ماخوز ہے اور لغت میں اس کے معنی جوڑا ہونا۔
اضافہ کرنا۔
اوراعانت کرنا آتے ہیں۔
شرعاً یہ ہے کہ ''مشترک یا ملحق زمین ومکان کو فروخت کرتے وقت شریک ساتھی کو جو حق خریداری کا اولین حق رکھتا تھا۔
بتائے بغیر کسی اور کو منتقل کردیا گیا ہو۔
تو اسے واپس لوٹانا۔
شفعہ کہلاتا ہے۔
بشرط یہ ہے کہ قیمت وہی ہو جو اجنبی نے دی ہو۔


حدیث۔
1516۔
3515۔
میں ہمسائے سے مراد شریک ہے۔
جیسا کہ متعدد روایات میں صراحت ہے۔
اسی کی تایئد حدیث 3518 سے بھی ہوتی ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ جس ہمسائے کا راستہ ایک ہو وہی ہمسایہ شفعہ کا حقدار ہوگا۔
اگر راستہ مشترک نہ ہو۔
بلکہ الگ الگ ہو ایک دوسرے کی حدود متعین ہوں تو پھر محض ہمسایہ ہونے کی بنا پردہ شفعہ کا حق دار نہیں ہوگا۔
شفعہ کا حق دارصرف وہی ہوگا جو زمین یا باغ میں شریک ہوگا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3517]

Sunan Abi Dawud Hadith 3517 in Urdu