🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب نسخ الضيف يأكل من مال غيره
باب: دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3753
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ سورة النساء آية 29، فَكَانَ الرَّجُلُ يُحْرَجُ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا سورة النور آية 61 مِنْ بُيُوتِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَشْتَاتًا سورة النور آية 61، كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ، قَالَ: إِنِّي لَأَجَّنَّحُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي، فَأُحِلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأُحِلَّ طَعَامُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» (سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... ‏أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3753]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سورہ النساء کی آیت 29 کی تفسیر میں فرمایا: ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] تم آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ، سوائے اس کے کہ آپس کی رضامندی سے تجارت ہو۔ اس آیت کے اترنے پر لوگ ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے میں حرج سمجھتے تھے۔ پھر سورہ النور کی آیت 61 نے اس کو منسوخ کر دیا۔ ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ﴾ [سورة النور: 61] «إِلَىٰ قَوْلِهِ أَشْتَاتًا» تم پر کوئی حرج نہیں کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے کھاؤ یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم سب ساتھ مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ (اسی طرح) کوئی غنی اپنے اہل کے کسی فرد کو کھانے کی دعوت دیتا تو وہ کہتا کہ میں اس کے کھانے میں حرج سمجھتا ہوں، کوئی اور مسکین اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے۔ چنانچہ اس آیت کے ذریعے سے حلال ٹھہرایا گیا ہے کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ کھا لیا کریں اور (ایسے ہی) اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6264) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي سعيد النحوي، أبو الحسن
Newيزيد بن أبي سعيد النحوي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← يزيد بن أبي سعيد النحوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن الحسين القرشي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسين القرشي ← الحسين بن واقد المروزي
مقبول
👤←👥أحمد بن شبوية الخزاعي، أبو الحسن
Newأحمد بن شبوية الخزاعي ← علي بن الحسين القرشي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3753 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3753
فوائد ومسائل:
فائدہ: سورہ نساء کی آیت سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے یہ سمجھا کہ تجارت کے بغیر کسی کے ہاں کھانا کھانا۔
اکل بالباطل (ناجائز) ہے۔
اسی طرح بعض مال دار اپنے غریب رشتے دار کے ہاں کھانے میں حرج سمجھتے تھے۔
سورہ نور کی آیت سے ان دونوں شبہات کا ازالہ کرکے واضح کر دیا گیا کہ تم تجارت کے بغیر بھی ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھا سکتے ہو۔
اسی طرح مالدار شخص اپنے غریب رشتے دار کے گھر کھانا کھا سکتا ہے۔
صرف ایک شرط ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
علاوہ ازیں اہل کتاب کا کھانہ بی تمہارے لئے حلال ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3753]

Sunan Abi Dawud Hadith 3753 in Urdu