سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في قوله عز وجل { وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن }
باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“ (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» ”بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو“ (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] کی تفسیر میں فرمایا: ”(یہ عام الحکم تھا۔ پھر بڑی عمر کی بوڑھی عورتوں کے حق میں) اسے منسوخ کر کے انہیں اس حکم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا﴾ [سورة النور: 60] یعنی بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں جنہیں اب نکاح کی خواہش نہ ہو۔ (ان پر پردے کے احکام کی پابندی نہیں ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6266) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4111 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4111
فوائد ومسائل:
اس آیت کریمہ کے اگلے الفاظ بڑے اہم ہیں، ارشاد باری ہے تعالی ہے: اگر وہ اپنے کپڑے اتار رکھیں توان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ اپنا بناو سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں، تاہم اس میں احتیاط کریں تو بہت افضل ہے، جب بڑی عمر کی عورتوں کو اظہار زینت حرام اور ناجائز ہے تو جوان دوشیزاوں کے لئے اور بھی حرام ہے۔
اس آیت کریمہ کے اگلے الفاظ بڑے اہم ہیں، ارشاد باری ہے تعالی ہے: اگر وہ اپنے کپڑے اتار رکھیں توان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ اپنا بناو سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں، تاہم اس میں احتیاط کریں تو بہت افضل ہے، جب بڑی عمر کی عورتوں کو اظہار زینت حرام اور ناجائز ہے تو جوان دوشیزاوں کے لئے اور بھی حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4111]
Sunan Abi Dawud Hadith 4111 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي