سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في تعظيم قتل المؤمن
باب: مومن کا قتل بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 4271
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُبِارَكٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ أَوْ غَيْرُهُ، قَال: قَالَ خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى الْغَسَّانِيّ عَنْ، قَوْلِهِ: اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ، قَالَ: الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي الْفِتْنَةِ فَيَقْتُلُ أَحَدُهُمْ فَيَرَى أَنَّهُ عَلَى هُدًى لَا يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَعْنِي مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَاعْتَبَطَ يَصُبُّ دَمَهُ صَبًّا.
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس (قتل) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی (ناحق) خون بہانے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4271]
خالد بن دہقان رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی رحمہ اللہ سے «اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ» کا مفہوم پوچھا تو انہوں نے کہا: ”جو لوگ فتنے میں قتال کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کسی کو قتل کر دیتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ وہ حق اور ہدایت پر تھا اور اس عمل پر اللہ سے استغفار نہیں کرتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، اور مزید کہا کہ «فَاعْتَبَطَ» کا مفہوم ہے کہ ”خون بہاتا ہے، خوب بہانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19544) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4270)
انظر الحديث السابق (4270)
Sunan Abi Dawud Hadith 4271 in Urdu