سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب ما جاء في الشعر
باب: شعر کا بیان۔
حدیث نمبر: 5016
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ سورة الشعراء آية 224، فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى، فَقَالَ: إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا سورة الشعراء آية 227".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «والشعراء يتبعهم الغاوون» ”شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں“ (الشعراء: ۲۲۴) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا» ”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا“ (الشعراء: ۲۲۷) میں بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5016]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] ”شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔“ کی تفسیر میں فرمایا کہ ”اس کے عموم کو منسوخ کر کے اصحاب ایمان کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے اور فرمایا ہے: ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ [سورة الشعراء: 227] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور اللہ کا بہت ذکر کیا۔““ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6268) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 5016 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي