سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5066
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ حَسَنٍ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ إِحْدَاهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ: أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ سَبْيًا، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ السَّبْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ"، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ التَّسْبِيحِ، قَالَ: عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّوْمَ.
زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، (وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5066]
ام الحکم کے صاحبزادے یا ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (ام الحکم اور ضباعہ دونوں زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹیاں ہیں)، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے انہیں اپنی وہ مشکلات پیش کیں جن سے ہم دوچار ہوتی تھیں اور ہم نے عرض کیا: ”ان قیدیوں میں سے کوئی خادم ہمیں بھی دیے جانے کا حکم ارشاد فرمائیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدر کے یتیم تم سے پہلے لے چکے ہیں۔“ پھر تسبیح والا قصہ ذکر کیا اور اس روایت میں ہر نماز کے بعد کا بیان ہے، سوتے وقت کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2987)، (تحفة الأشراف: 15912، 18314) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2987)
انظر الحديث السابق (2987)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5066 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5066
فوائد ومسائل:
یہ حدیث پیچھے کتاب الخراج میں گُزرچکی ہے۔
دیکھئے حدیث 2987۔
فوائد وہاں ملاحظہ ہوں۔
یہ حدیث پیچھے کتاب الخراج میں گُزرچکی ہے۔
دیکھئے حدیث 2987۔
فوائد وہاں ملاحظہ ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5066]
Sunan Abi Dawud Hadith 5066 in Urdu
ابن أم الحكم بنت الزبير ← ضباعة بنت الزبير القرشية