سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. باب الاِسْتِئْذَانِ فِي الْعَوْرَاتِ الثَّلاَثِ
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5191
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ , وَابْنُ عَبْدَةَ , وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" لَمْ يُؤْمَرْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةَ الْإِذْنِ وَإِنِّي لَآمُرُ جَارِيَتِي هَذِهِ تَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ.
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا (استیذان کا) حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5191]
جناب عبداللہ بن ابو یزید سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا، وہ کہتے تھے: ”اکثر لوگ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النور: 58] اجازت طلب کرنے والی آیت پر «كَمَا حَقُّهُ» ایمان نہیں لائے، حالانکہ میں اپنی اس لونڈی کو کہتا ہوں کہ میرے پاس آتے ہوئے بھی اجازت لیا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عطاء نے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے ہی روایت کیا ہے کہ وہ اس کا حکم دیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5869) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن عينة مدلس و عنعن
وكان يدلس عن الثقات والمدلسين والضعفاء
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
سفيان بن عينة مدلس و عنعن
وكان يدلس عن الثقات والمدلسين والضعفاء
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 5191 in Urdu
عبيد الله بن أبي يزيد المكي ← عبد الله بن العباس القرشي