سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب الإمام يقوم مكانا أرفع من مكان القوم
باب: امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي.
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن (کوفہ کے پاس ایک شہر ہے) میں ایک چبوترہ (اونچی جگہ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی (اور لوگ نیچے تھے)، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں (نیچے) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 597]
جناب ہمام سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کرا رہے تھے کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو قمیص سے پکڑ کر کھینچ لیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ لوگوں کو اس سے منع کیا جاتا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تو مجھے بھی یاد آ گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
إسناده ضعيف
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 597 in Urdu
همام بن الحارث النخعي ← حذيفة بن اليمان العبسي