🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. باب مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: جب آدمی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:" لَا يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الْإِمَامِ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَكِنْ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ".
عامر شعبی کہتے ہیں`: لوگ امام کے پیچھے: «سمع الله لمن حمده» نہ کہیں، بلکہ «ربنا لك الحمد» کہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 849]
جناب عامر بن شراحیل شعبی رحمہ اللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ: ”لوگوں کو امام کے پیچھے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ نہیں کہنا چاہیے۔ وہ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12568) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نماز کی تعلیم سے متعلق «مسئ صلاۃ» کی حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پیٹھ اوپر کرتے ہوئے: «سمع الله لمن حمده» پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کسی آدمی کی نماز پوری نہیں ہوتی حتی کہ وہ یہ اور یہ کرے، اس حدیث میں کہ پھر رکوع کرے پھر: «سمع الله لمن حمده» کہے حتی کہ اچھی طرح کھڑا ہو جائے (ابوداود)۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت قیام میں «ربنا ولك الحمد» پڑھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم امام اور مقتدی سب کو یہ فرما کر دیا کہ: «صلوا كما رأيتموني أصلي» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: امام کو اس کی اقتداء ہی کے لئے بنایا گیا ہے، فرمایا: اور جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللہم ربنا ولک الحمد» کہو، اور اس کی تعلیل ایک دوسری حدیث میں یوں کی ہے کہ جس آدمی کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے ماضی کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اس تفصیل کے مطابق امام اور مقتدی سب کو دونوں دعا پڑھنی چاہئے، بعض ائمہ جیسے شعبی کا مذہب ہے کہ مقتدی «سمع الله لمن حمده» نہ کہیں صرف «ربنا ولك الحمد» پر اکتفا کریں۔
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمروثقة
👤←👥مطرف بن طريف الحارثي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمطرف بن طريف الحارثي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥أسباط بن محمد القرشي، أبو محمد
Newأسباط بن محمد القرشي ← مطرف بن طريف الحارثي
ثقة
👤←👥بشر بن عمار القهستاني
Newبشر بن عمار القهستاني ← أسباط بن محمد القرشي
صدوق حسن الحديث
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 849 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 849
849۔ اردو حاشیہ:
➊ «تسميع» «سمع الله لمن حمده» کہنا، تحمید «ربنا لك الحمد» کہنا اور دیگر دعاؤں میں منفرد امام اور مقتدی سب ہی شریک ہوں، احادیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے۔ امام شافعی، مالک، عطا، ابوداؤد، ابوبردہ، محمد بن سیرین، اسحاق اور داؤد کا میلان اسی طرف ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: [نيل الاوطار باب مايقول فى رفعه من الركوع، بعد انتصابه 279/2]
جب کہ کچھ دوسری طرف بھی گئے ہیں، جیسے کہ امام شعبی کا یہ قول بیان ہوا ہے۔ پہلی صورت میں ان شاء اللہ راحج ہے۔
➋ چاہیے کہ نوخیز بچوں اور طلبہ علم کو ان دعاؤں کے پڑھنے کا عا دی بنایا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 849]

Sunan Abi Dawud Hadith 849 in Urdu