سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
184. باب التشهد
باب: تشہد (التحیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ،حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ" فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ زَادَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُهُ فَأَنْصِتُوا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں (سلیمان تیمی) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو، اور انہوں نے تشہد میں «أشهد أن لا إله إلا الله» کے بعد «وحده لا شريك له» کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ کا قول: «فأنصتوا» محفوظ نہیں ہے، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 973]
جناب ابو غلاب نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے یہ حدیث بیان کی اور اضافہ کیا کہ ”امام جب قراءت کرے تو خاموش رہو“ اور تشہد میں «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» کے بعد «وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» کا اضافہ کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «فَأَنْصِتُوا» (یعنی خاموش رہو) کے لفظ محفوظ نہیں ہیں۔ اس حدیث میں صرف سلیمان تیمی ہی اس کو روایت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8987) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (404)
منسوخ بحديث أبي ھريرة، انظر الحديث السابق (821)
منسوخ بحديث أبي ھريرة، انظر الحديث السابق (821)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 973 in Urdu
يونس بن جبير الباهلي ← حطان بن عبد الله البصري