🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
658. (425) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُتَقَصَّى فِي الْمُصَلِّي شَكَّ فِي صَلَاتِهِ وَالْأَمْرِ بِالْبِنَاءِ عَلَى الْأَقَلِّ مِمَّا يَشُكُّ فِيهِ الْمُصَلِّي،
اپنی نماز میں شک کرنے والے کے متعلق تفصیلی روایت کا بیان اور جتنی رکعات میں نمازی کو شک ہو ان میں کم پر بنیاد رکھنے حُکم کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1023
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ الشَّاكَّ فِي صَلَاتِهِ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَمَا يَبْنِي عَلَى الْأَقَلِّ، فَيُتَمِّمُ صَلَاتَهُ عَلَى يَقِينٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ تَحَرٍّ


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین پر بنا کرے۔ پھر اگر اسے نماز مکمّل ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ دو (سہو کے) سجدے کرلے۔ اگر اس کی نماز پوری ہوئی تو اس کی وہ رکعت اور دو سجدے نفل ہوں گے، اور اگر نماز پوری نہ ہوئی تو یہ رکعت اس کی نماز مکمّل کر دے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل و رسوا کر نے کا باعث ہوں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 571، 571، ومالك فى (الموطأ) برقم: 315، وابن الجارود فى "المنتقى"، 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 29، 1023، 1024، 1025، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2663، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 463، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى (جامعه) برقم: 396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1536، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 514، 1204، 1210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3871، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11241»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← محمد بن عجلان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1023 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1023
فوائد:
➊ جسے نماز کی رکعات میں شک ہو اسے اقل عدد پر بنا کرنی چاہیے۔
❀ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرَا وَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ»
”جب کسی شخص کو نماز میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے ایک رکعت ادا کی ہے یا دو، تو وہ اسے ایک رکعت قرار دے، جب اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے دو رکعت نماز پڑھی ہے یا تین رکعت، تو وہ اسے دو رکعت شمار کرے اور جب معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعت نماز پڑھی ہے یا چار رکعت تو وہ اسے تین رکعت شمار کرے، پھر نماز سے فراغت کے بعد اور سلام سے قبل دو سجدے کرے۔“ [مسند أحمد: 190/1، سنن ابن ماجه: 1209، السلسلة الصحيحة: 1356، صحيح]
➋ سہو کے دو سجدے نماز میں ہونے والی کمی بیشی پوری کر دیتے ہیں۔
نیز یہ عمل شیطان کی ذلت و رسوائی کا بھی باعث ہے کیونکہ شک اور اختلاط کے ذریعے شیطان نمازی کی نماز میں کمی کرنا چاہتا ہے۔
لیکن جب سہو کے دو سجدوں کے ذریعے اس کی نماز میں کمی کا ازالہ ہو جاتا ہے، تو یہ عمل شیطان کی رسوائی اور ذلت کا باعث بنتا ہے۔
➌ اگر چوتھی رکعت میں شک واقع ہو کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی تو اسے تیسری رکعت بنا دیں گے اور اگر وہ چوتھی رکعت ہو تو سہو کے دو سجدے شیطان کی ذلت کا باعث بنتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1023]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1023 in Urdu