صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
670. (437) باب ذكر المصلي يصلي خمس ركعات ساهيا
اس نمازی کا بیان جو بھول کر پانچ رکعت پڑھ لیتا ہے
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلاةِ؟ فَقَالَ: لا، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حقیقت حال معلوم ہونے پر) دو سجدے کئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، 1055، 1056، 1057، 1058، 1059، 1061، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1239، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1057 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1057
فوائد:
➊ یہ احادیث مالک، شافعی، احمد اور جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہیں کہ جو شخص بھول کر نماز کی ایک رکعت زائد پڑھ لے، اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
بلکہ اگر سلام پھیرنے کے بعد علم ہو کہ اس نے زائد رکعت پڑھی ہے، تب بھی اس کی نماز صحیح متصور ہوگی۔
اور اگر سلام پھیرنے کے بعد جلد علم ہو جائے تو وہ سجدہ سہو کے دو سجدے کرے گا اور اگر طویل عرصہ ہوچکا ہو تو ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کے سجدے نہیں کرے گا۔ [شرح النووی: 5/63]
➋ نماز میں بھول کر اضافے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے سجدے مستحب ہیں۔
➊ یہ احادیث مالک، شافعی، احمد اور جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہیں کہ جو شخص بھول کر نماز کی ایک رکعت زائد پڑھ لے، اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
بلکہ اگر سلام پھیرنے کے بعد علم ہو کہ اس نے زائد رکعت پڑھی ہے، تب بھی اس کی نماز صحیح متصور ہوگی۔
اور اگر سلام پھیرنے کے بعد جلد علم ہو جائے تو وہ سجدہ سہو کے دو سجدے کرے گا اور اگر طویل عرصہ ہوچکا ہو تو ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کے سجدے نہیں کرے گا۔ [شرح النووی: 5/63]
➋ نماز میں بھول کر اضافے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے سجدے مستحب ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1057]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1057 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود