صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
679. (446) بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الْمَنْصُوصَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوص روایات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی، پھر نیچے اُترے، تو دس رکعات ادا کیں اور ایک وتر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں ادا کیں پھر ایک رکعت وتر ادا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر دو رکعت (سنّتیں) ادا کیں، پھر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ میں نے یہ مکمّل باب کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1075، 1261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2629»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1075 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1075
فوائد:
نمازِ وتر ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ اور تیرہ رکعات مشروع ہے۔
اس میں سے کسی ایک عدد کے انتخاب و اہتمام سے نمازِ وتر ادا ہو جاتی ہے۔
پھر ایک سے زائد وتر ادا کرنے کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں سے زیادہ مشہور اور معمول بہ صورت یہ ہے کہ رات کے نوافل دو دو رکعت ادا کیے جائیں اور آخر میں ایک وتر پڑھا جائے۔
یوں رات کی نماز وتر ہو جاتی ہے، نیز وتر کے مختلف طریقے منقول ہیں۔
جن کی وضاحت آئندہ روایات میں ہوگی۔
نمازِ وتر ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ اور تیرہ رکعات مشروع ہے۔
اس میں سے کسی ایک عدد کے انتخاب و اہتمام سے نمازِ وتر ادا ہو جاتی ہے۔
پھر ایک سے زائد وتر ادا کرنے کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں سے زیادہ مشہور اور معمول بہ صورت یہ ہے کہ رات کے نوافل دو دو رکعت ادا کیے جائیں اور آخر میں ایک وتر پڑھا جائے۔
یوں رات کی نماز وتر ہو جاتی ہے، نیز وتر کے مختلف طریقے منقول ہیں۔
جن کی وضاحت آئندہ روایات میں ہوگی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1075]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1075 in Urdu