صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. (86) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، إِذْ مَاؤُهُ طَهُورٌ مَيْتَتُهُ حِلٌّ،
سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے
حدیث نمبر: 112
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ، قَالَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، وَالْحَلالُ مَيْتَتُهُ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندرکےمتعلق پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 947، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1244، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 502، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 388، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1215، 19034، والدارقطني فى (سننه) برقم: 68، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15243»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن مقسم القرشي عبيد الله بن مقسم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة مشهور | |
👤←👥إسحاق بن حازم الزيات إسحاق بن حازم الزيات ← عبيد الله بن مقسم القرشي | صدوق تكلم فيه للقدر | |
👤←👥أبو القاسم بن أبي الزناد، أبو القاسم أبو القاسم بن أبي الزناد ← إسحاق بن حازم الزيات | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله أحمد بن حنبل الشيباني ← أبو القاسم بن أبي الزناد | ثقة حافظ فقيه حجة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← أحمد بن حنبل الشيباني | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 112 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 112
فوائد:
اس حدیث سے کئی مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
➊ سمندر کا پانی طاہر و مطہر ہے۔
➋ تمام سمندری حیوانات جن کی زندگی کا مدار پانی پر ہے، حلال ہیں۔
◈ امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی موقف ہے کہ تمام سمندری مردار حلال ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مچھلی کے سوا تمام سمندری مردار حرام ہیں۔
مفتی سے جب کسی مسئلے کے بارے میں سوال کیا جائے اور مفتی سمجھے کہ سائل کو اس سوال کے ساتھ مسئلے کی مزید وضاحت کی حاجت ہے تو اسے اضافی مسئلے سے روشناس کرانا مستحب عمل ہے، کیونکہ سائل کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ سمندر کا مردار حلال ہے، مزید فائدے کے طور پر تھا اور یہ اضافی معلومات شکاریوں کے لیے مفید تھیں اور سائل بھی شکاری تھا۔
نیز یہ چیز فتویٰ کے محاسن میں شامل ہے۔
◈ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اصولِ طہارت کی اہم اصل ہے جو کئی احکام اور اہم قواعد پر مشتمل ہے۔ [عون المعبود: 95/1]
➌ میٹھے پانی کی موجودگی میں سمندر کے کڑوے پانی سے وضو کرنا جائز ہے کیونکہ سمندر کا پانی مطلق طاہر ہے اور کوئی ایسی قید موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ میٹھے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں ہی سمندر کے پانی سے وضو کیا جائے۔
اس حدیث سے کئی مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
➊ سمندر کا پانی طاہر و مطہر ہے۔
➋ تمام سمندری حیوانات جن کی زندگی کا مدار پانی پر ہے، حلال ہیں۔
◈ امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی موقف ہے کہ تمام سمندری مردار حلال ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مچھلی کے سوا تمام سمندری مردار حرام ہیں۔
مفتی سے جب کسی مسئلے کے بارے میں سوال کیا جائے اور مفتی سمجھے کہ سائل کو اس سوال کے ساتھ مسئلے کی مزید وضاحت کی حاجت ہے تو اسے اضافی مسئلے سے روشناس کرانا مستحب عمل ہے، کیونکہ سائل کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ سمندر کا مردار حلال ہے، مزید فائدے کے طور پر تھا اور یہ اضافی معلومات شکاریوں کے لیے مفید تھیں اور سائل بھی شکاری تھا۔
نیز یہ چیز فتویٰ کے محاسن میں شامل ہے۔
◈ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اصولِ طہارت کی اہم اصل ہے جو کئی احکام اور اہم قواعد پر مشتمل ہے۔ [عون المعبود: 95/1]
➌ میٹھے پانی کی موجودگی میں سمندر کے کڑوے پانی سے وضو کرنا جائز ہے کیونکہ سمندر کا پانی مطلق طاہر ہے اور کوئی ایسی قید موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ میٹھے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں ہی سمندر کے پانی سے وضو کیا جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 112]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 112 in Urdu
عبيد الله بن مقسم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري