🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. ‏(‏88‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْمَاءِ يَكُونُ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
مردار کے دباغت شدہ چمڑے میں موجود پانی سے وضوکرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
نا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيِّتَةٌ، قَالَ:" دِبَاغُهُ يَذْهَبُ بِخُبْثِهِ أَوْ نَجَسِهِ أَوْ رِجْسِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صل الله علیہ وسلم نے ایک مشکیزے سے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ یہ مردار (جانور کے چمڑے سے بنا ہوا مشکیزہ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت، اس کی پلیدی، ناپاکی اور گندگی دور کر دیتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 114، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 578، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 49، 540، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2148، 2925»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي الجعد الغطفاني
Newعبد الله بن أبي الجعد الغطفاني ← عبد الله بن العباس القرشي
مقبول
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← عبد الله بن أبي الجعد الغطفاني
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ فاضل
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 114 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 114
فوائد:
➊ مشرکین کے برتن پاک ہیں، البتہ ان کے ناپاک ہونے کی صریح نص موجود ہو تو ٹھیک ورنہ انہیں طہارت پر محمول کیا جائے گا۔
➋ مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، کیونکہ مشرک عورت کے مشکیزے مشرکین کے ذبیحوں کے تھے اور مشرکین کے ذبیحے مردار ہوتے ہیں، لہذا یہ حدیث دلیل ہے کہ دباغت کے بعد مردار جانوروں کے چمڑے پاک ہو جاتے ہیں۔ اور انہیں زیر استعمال لانا جائز ہے۔
➌ مشرک اعتقادی نجس ہے، اس کا جسم نجس نہیں، اس لیے کہ مشرک عورت کے ہاتھ مشکیزے بھرتے وقت پانی کو لگتے تھے اور وہ پانی دو مشکوں سے کم تھا، لہذا اگر مشرک جسمانی لحاظ سے نجس ہوتے تو یہ پانی استعمال کرنا ناجائز ہوتا۔ لہذا یہ حدیث دلیل ہے کہ مشرکین اعتقادی لحاظ سے ہی نجس ہیں۔
➍ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم معجزہ اور علامت نبوت کا بیان ہے۔ پانی کی عدم دستیابی اور سخت حاجت کے وقت پانی کے مالک سے زبردستی پانی حاصل کرنا جائز ہے اور اس کے عوض میں اتنی رقم وغیرہ ادا کر دی جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 114]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 114 in Urdu