صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
753. (520) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا
اس مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جو میں نے ذکر کی تھی اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”ہر روز میں“ سے مراد ہر دن اور رات مراد ہے۔ اور فرض نمازوں سے پہلے اور ان کے بعد نفل رکعات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدُ الْبَغْدَادِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ وَهُوَ ابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ"
سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے بارہ رکعات (نفل نماز) ادا کیں، اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنّت میں گھر بنا دیتا ہے، چار رکعات ظہر سے پہلے، اور دو رکعات ظہر کے بعد، دو رکعات عصر سے پہلے، اور دو رکعات مغرب کے بعد، اور دو رکعات فجر سے پہلے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 728، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1185، 1186، 1187، 1188، 1189، 1190، 1191، 1192، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2451، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1177، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1795، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1250، 1269، والترمذي فى (جامعه) برقم: 415، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1141، 1160، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27406»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1189 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1189
فوائد:
➊ احادیث میں سنتِ مؤکدہ کی فضیلت کا بیان ہے اور ان کا اہتمام حصولِ جنت کا باعث ہے۔
➋ سنتِ مؤکدہ میں سے کوئی بھی نماز فرض نہیں، بلکہ یہ نمازیں فرائض کے تابع ہیں۔ اور ان کے چھوڑنے سے انسان گناہ گار نہیں ہوتا۔
➌ ◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ احادیث الباب دلیل ہیں کہ مذکورہ بارہ رکعتوں سے سنتِ مؤکدہ مراد ہیں اور یہ سنتیں فرائض کے تابع ہیں۔ [نیل الاوطار: 19/3]
➊ احادیث میں سنتِ مؤکدہ کی فضیلت کا بیان ہے اور ان کا اہتمام حصولِ جنت کا باعث ہے۔
➋ سنتِ مؤکدہ میں سے کوئی بھی نماز فرض نہیں، بلکہ یہ نمازیں فرائض کے تابع ہیں۔ اور ان کے چھوڑنے سے انسان گناہ گار نہیں ہوتا۔
➌ ◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ احادیث الباب دلیل ہیں کہ مذکورہ بارہ رکعتوں سے سنتِ مؤکدہ مراد ہیں اور یہ سنتیں فرائض کے تابع ہیں۔ [نیل الاوطار: 19/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1189]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1189 in Urdu
محمد بن أبي سفيان القرشي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية