صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
761. (528) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا اسْتَحَبَّ الصَّلَاةَ فِي الْبَيْتِ عَلَى الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ خَلَا الْمَكْتُوبَةِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے علاوہ، اپنے گھر میں نماز پڑھنے کو مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند کیا ہے
حدیث نمبر: 1204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلا الْمَكْتُوبَةَ"
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو، اپنے گھروں میں نماز پڑھاکرو بیشک آدمی کی افضل ترین نماز اُس کے گھر میں ہے مگر فرض نماز (وہ مسجد میں افضل ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 731، 6113، 7290، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 781، مالك فى (الموطأ) برقم: 428، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1203، 1204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2491، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1598، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1044، 1447، والترمذي فى (جامعه) برقم: 450، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1406، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4680، 5318، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21983»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1204 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1204
فوائد:
➊ فرض نماز کے علاوہ مؤکدہ و غیر مؤکدہ نوافل کا گھر پر اہتمام کرنا افضل اور رحمتِ ایزدی کے حصول کا ذریعہ ہے۔
➋ نوافل کا اہتمام مساجد کے بجائے گھروں میں بہتر ہے اور گھروں میں نوافل کا اہتمام استحباب کی دلیل ہے۔ تاہم مساجد میں نوافل ادا کرنا بہرحال جائز ہے۔
➌ فرض نماز کی ادائیگی کے لیے مردوں کا مساجد میں حاضر ہونا اور جماعت میں شریک ہونا لازم ہے۔ البتہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے نمازِ باجماعت سے پیچھے رہنا مضر نہیں۔
➊ فرض نماز کے علاوہ مؤکدہ و غیر مؤکدہ نوافل کا گھر پر اہتمام کرنا افضل اور رحمتِ ایزدی کے حصول کا ذریعہ ہے۔
➋ نوافل کا اہتمام مساجد کے بجائے گھروں میں بہتر ہے اور گھروں میں نوافل کا اہتمام استحباب کی دلیل ہے۔ تاہم مساجد میں نوافل ادا کرنا بہرحال جائز ہے۔
➌ فرض نماز کی ادائیگی کے لیے مردوں کا مساجد میں حاضر ہونا اور جماعت میں شریک ہونا لازم ہے۔ البتہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے نمازِ باجماعت سے پیچھے رہنا مضر نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1204]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1204 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← زيد بن ثابت الأنصاري