صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
775. (542) بَابُ ذِكْرِ عَدَدِ السُّلَامَى وَهِيَ الْمَفَاصِلُ الَّتِي عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ
انسانی جوڑوں کی اس تعداد کا بیان جن پر صدقہ واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: Q1226
الَّتِي تُجْزِئُ رَكْعَتَا الضُّحَى مِنَ الصَّدَقَةِ الَّتِي عَلَى تِلْكَ الْمَفَاصِلِ كُلِّهَا
اور چاشت کی دورکعت ان جوڑوں پر واجب صدقے سے کافی ہو جاتی ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: Q1226]
حدیث نمبر: 1226
نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِي الإِنْسَانِ ثَلاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصَلا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ صَدَقَةً" قَالَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا أَوِ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ"
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”ہر انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں۔ اس پر واجب ہے کہ وہ ہر جوڑکا صدقہ ادا کرے - انہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی (اتنا زیادہ) صدقہ کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں پڑی بلغم کو دفنا دے یا راستے سے (تکلیف دہ) کوئی چیز ہٹا دے، اگر تُو یہ بھی نہ کر سکے تو چاشت کی دو رکعت تجھے کفایت کر جائیں گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1226، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1642، 2540، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5242، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23464، 23504، والبزار فى (مسنده) برقم: 4417، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 99»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1226 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1226
فوائد:
◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ احادیث نماز چاشت کی عظمت و اہمیت اور اس کی تاکید پر دلالت کرتی ہیں اور دو رکعت نماز چاشت تین سو ساٹھ جوڑوں کے صدقہ سے کفایت کرتی ہیں۔
جب اس نماز کی اتنی اہمیت ہے تو یہ اس لائق ہے کہ اس پر مواظبت و مداومت کی جائے۔
نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ بکثرت تسبیح و تحمید کرنا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا، مسجد میں پڑے بلغم کو دفنانا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور من جملہ امور اطاعت بجا لانا مستحب اعمال ہیں۔
ان سے انسان پر ہر دن کے صدقات لازمہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ [نیل الأوطار: 69/3]
◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ احادیث نماز چاشت کی عظمت و اہمیت اور اس کی تاکید پر دلالت کرتی ہیں اور دو رکعت نماز چاشت تین سو ساٹھ جوڑوں کے صدقہ سے کفایت کرتی ہیں۔
جب اس نماز کی اتنی اہمیت ہے تو یہ اس لائق ہے کہ اس پر مواظبت و مداومت کی جائے۔
نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ بکثرت تسبیح و تحمید کرنا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا، مسجد میں پڑے بلغم کو دفنانا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور من جملہ امور اطاعت بجا لانا مستحب اعمال ہیں۔
ان سے انسان پر ہر دن کے صدقات لازمہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ [نیل الأوطار: 69/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1226]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1226 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي