صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
797. (564) باب صلاة التطوع بالليل فى السفر على الأرض
سفر کے دوران رات کے وقت نفل نماز زمین پر ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلالٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي السَّفَرِ، وَالأَخْبَارُ الَّتِي رَوَيْنَاهَا فِي كِتَابِ الْكَبِيرُ، فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ،" وَأَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے اُترے اور دس رکعات ادا کیں اور ایک وتر ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعات ادا کیں، پھر ایک وتر ادا کیا، پھر فجر کی دو سنّتیں ادا کیں، اور ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت صراحت کررہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں فجر کی دو سنّتیں ادا کی ہیں۔ اور وہ روایات جو ہم نے کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے سوئے رہ گئے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو سنّتیں ادا کیں پھر نماز فجر پڑھائی۔ (وہ بھی سفر میں نفل نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہیں۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1075، 1261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2629»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1261 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1261
فوائد:
➊ سفر میں رات کی نماز کا اہتمام کرنا اور حضر میں قیام اللیل کا جو معمول ہو، سفر میں اس کا اہتمام جائز و مباح ہے۔
➋ رات کے نوافل دو دو رکعت پڑھنا اور آخر میں وتر پڑھنا افضل طریقہ ہے اور نیز قیام اللیل کے سنت سے ثابت تمام طریقے جائز ہیں۔
➌ سفر میں سواری اور سواری سے اتر کر زمین پر رات کے نوافل کا اہتمام کرنے کی دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➊ سفر میں رات کی نماز کا اہتمام کرنا اور حضر میں قیام اللیل کا جو معمول ہو، سفر میں اس کا اہتمام جائز و مباح ہے۔
➋ رات کے نوافل دو دو رکعت پڑھنا اور آخر میں وتر پڑھنا افضل طریقہ ہے اور نیز قیام اللیل کے سنت سے ثابت تمام طریقے جائز ہیں۔
➌ سفر میں سواری اور سواری سے اتر کر زمین پر رات کے نوافل کا اہتمام کرنے کی دونوں صورتیں جائز ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1261]
حدیث نمبر: Q1261
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ حُكْمَ الْوِتْرِ حُكْمُ الْفَرِيضَةِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ عَلَى الرَّاحِلَةِ غَيْرُ جَائِزٍ كَصَلَاةِ الْفَرِيضَةِ
سواری کا مُنہ جدھر بھی ہو، اس شخص کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ وتر کا حُکم فرض نماز کا ہے اور وتر فرض نماز کی طرح سواری پر پڑھنا جائز نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر/حدیث: Q1261]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1261 in Urdu
شرحبيل بن سعد الخطمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري