صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
827. (594) باب ذكر الخبر الدال (على) أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما نهى عن تناشد بعض الأشعار فى المساجد لا عن جميعها؛
اس روایت کا بیان جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں بعض اشعار پڑھنے کو منع کیا ہے۔ تمام قسم کے اشعار سے منع نہیں فرمایا
حدیث نمبر: Q1307
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَبَاحَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ أَنْ يَهْجُوَ الْمُشْرِكِينَ فِي الْمَسْجِدِ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُؤَيَّدَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا دَامَ مُجِيبًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 1307
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: مَا حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلا عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ، بِحَسَّانَ، وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟" قَالَ: نَعَمْ. وَحَدَّثَنَا، قَالَ: وَثناهُ الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا مِثْلَهُ، وَقَالَ سَعِيدٌ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَقَالَ الْحَسَنُ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جبکہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصّے سے) دیکھا تو اُنہوں نے عرض کی کہ میں (اس وقت بھی) شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس میں تم سے افضل ہستی موجود ہوتی تھی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”(اے حسان) میری طرف سے (مشرکین کی ہجو کا) جواب دو، اے اللہ، اس کی مدد روح القدس کے ساتھ فرما؟“ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے) جناب سعید کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں اس مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس میں تم سے افضل شخصیت مو جود تھی۔ جناب حسن کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں کہ میں شعر پڑھا کرتا تھا (جبکہ) اس میں مسجد میں تم سے بہتر واعلیٰ ہستی موجود تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 453، 3212، 6152، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2485، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1307، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1653، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 715، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5013، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4419، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7759، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1136»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة | |
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي الحسن بن الصباح الواسطي ← سعيد بن عبد الرحمن القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← الحسن بن الصباح الواسطي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر عبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1307 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1307
فوائد:
➊ گزشتہ احادیث میں مساجد میں اشعار کہنے کی ممانعت ہے اور حدیثِ باب میں اشعار کہنے کا اثبات ہے۔ یہ احادیث باہم متعارض لگتی ہیں اور ان کی تطبیق یہ ہے کہ دورِ جاہلیت اور باطل پرستوں کے اشعار کہنا ممنوع ہے اور جو اشعار دورِ جاہلیت اور باطل اشعار سے سالم ہوں، مساجد میں ایسے اشعار پڑھنے کی اجازت ہے۔ [فتح الباري: 710/1]
➋ مسجد میں مباح اشعار کہنا جائز ہے اور اگر وہ اسلام اور اہل اسلام کی مدح پر، کفار کی ہجو و تذلیل اور ان سے لڑائی پر مشتمل ہوں تو ایسے اشعار کہنا مستحب ہے اور حسان رضی اللہ عنہ کے اشعار اسی قبیل سے ہوتے تھے۔ [شرح النووي: 44/16، 45]
➊ گزشتہ احادیث میں مساجد میں اشعار کہنے کی ممانعت ہے اور حدیثِ باب میں اشعار کہنے کا اثبات ہے۔ یہ احادیث باہم متعارض لگتی ہیں اور ان کی تطبیق یہ ہے کہ دورِ جاہلیت اور باطل پرستوں کے اشعار کہنا ممنوع ہے اور جو اشعار دورِ جاہلیت اور باطل اشعار سے سالم ہوں، مساجد میں ایسے اشعار پڑھنے کی اجازت ہے۔ [فتح الباري: 710/1]
➋ مسجد میں مباح اشعار کہنا جائز ہے اور اگر وہ اسلام اور اہل اسلام کی مدح پر، کفار کی ہجو و تذلیل اور ان سے لڑائی پر مشتمل ہوں تو ایسے اشعار کہنا مستحب ہے اور حسان رضی اللہ عنہ کے اشعار اسی قبیل سے ہوتے تھے۔ [شرح النووي: 44/16، 45]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1307]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1307 in Urdu
سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري