صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
850. (617) بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَتَكْفِيرِ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا بِهَا
بیت المقدس کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت اور اس کے ساتھ گناہوں اور خطاوَں کی بخشش کا بیان
حدیث نمبر: 1334
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ الشَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي بُسْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ بُنْيَانِ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَلا يَأْتِي هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ فِيهِ إِلا خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سلیمان بن داؤد عليه السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اُنہیں اپنے حُکم کے موافق حُکم عطا فرمائے، اور ایسی بادشاہت و حکومت عطا فرمائے جو ان کے بعد کسی کو نصیب نہ ہو اور جو شخص بھی اس مسجد میں صرف نماز پڑھنے کی نیت سے آئے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے جس طرح وہ اپنی پیدائش کے دن تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پہلی دو دعائیں تو قبول ہوگئی تھیں اور مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کی جائے گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى المسجد غير الصلاة وذكر الله/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 692، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 814، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1861، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1334 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1334
فوائد:
➊ بیت المقدس کے بانی سلیمان بن داود عَلَیْہِمَا السَّلَام ہیں۔
➋ مسجد کی تعمیر اور نیک کام کی تکمیل پر خاص دعا کرنا جائز ہے اور یہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔
➌ بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے انسان کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں اور یہ انعام سلیمان عَلَيْهِ السَّلَام کی دعا کا ثمر ہے۔
➊ بیت المقدس کے بانی سلیمان بن داود عَلَیْہِمَا السَّلَام ہیں۔
➋ مسجد کی تعمیر اور نیک کام کی تکمیل پر خاص دعا کرنا جائز ہے اور یہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔
➌ بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے انسان کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں اور یہ انعام سلیمان عَلَيْهِ السَّلَام کی دعا کا ثمر ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1334]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1334 in Urdu
عبد الله بن فيروز الديلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي