صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
887. (654) باب خطبة الإمام بعد صلاة الكسوف
نماز کسوف کے بعد امام کا خطبہ دینا
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَجَلَّتْ قَامَ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلا لِحَيَاتِهِ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟"
جناب عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سورج گرہن لگنے کا واقعہ روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب سورج روشن ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا: ”بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ اے اُمّت محمدیہ، بیشک اللہ تعالیٰ کو اُس وقت بڑی غیرت آتی ہے جب اُس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرتے ہیں۔ اے اُمّت محمدیہ، اللہ کی قسم یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ سب کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت تھوڑا ہنسو اور بہت زیادہ رویا کرو۔ خبردار، کیا میں نے (اللہ کا دین) پہنچا دیا ہے؟“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، 1047، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، ومالك فى (الموطأ) برقم: 639، وابن الجارود فى "المنتقى"، 276، 277، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، 1378، 1379، 1382، 1383، 1387، 1390، 1391، 1395، 1398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1464، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1395 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1395
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نمازِ کسوف کے بعد خطبہ دینا مستحب فعل ہے۔
➋ صاحبِ ہدایہ کہتے ہیں کہ نمازِ کسوف میں خطبہ مشروع نہیں، کیونکہ نمازِ کسوف کا خطبہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ لیکن مذکورہ حدیث اور دیگر احادیث جن میں خطبہ کسوف کا بیان ہے اس موقف کی تردید کرتی ہیں۔ ** [نيل الأوطار: 3/345] **
➌ نمازِ کسوف کے بعد ایک خطبہ مشروع ہے، اس کے بعد دو خطبوں کا ثبوت نہیں ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نمازِ کسوف کے بعد خطبہ دینا مستحب فعل ہے۔
➋ صاحبِ ہدایہ کہتے ہیں کہ نمازِ کسوف میں خطبہ مشروع نہیں، کیونکہ نمازِ کسوف کا خطبہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ لیکن مذکورہ حدیث اور دیگر احادیث جن میں خطبہ کسوف کا بیان ہے اس موقف کی تردید کرتی ہیں۔ ** [نيل الأوطار: 3/345] **
➌ نمازِ کسوف کے بعد ایک خطبہ مشروع ہے، اس کے بعد دو خطبوں کا ثبوت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1395]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1395 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق