صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
893. (660) بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى لِلِاسْتِسْقَاءِ
نماز استقاء کے لئے عید گاہ کی طرف نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 1406
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الْمَسْعُودِيُّ ، ويحيى هُوَ النصاري ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِيكَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا مِنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى، فَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ"
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف گئے تو آپ نے پانی (بارش) طلب کرنے کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو اُلٹایا اور دو رکعات ادا کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، 1023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، ومالك فى (الموطأ) برقم: 646، وابن الجارود فى "المنتقى"، 281، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، 1410، 1414، 1415، 1420، 1424، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1406 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1406
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز استسقاء کے لیے عید گاہ یا کسی کھلے میدان کا رخ کرنا مشروع فعل ہے اور ان احادیث میں ان لوگوں کے موقف کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ نماز استسقاء کے لیے عید گاہ وغیرہ کا رخ کرنا درست نہیں۔
➋ نماز استسقاء کے لیے پراگندہ لباس میں نکلنا، خشوع و خضوع اختیار کرنا اور آہ و زاری کرنا مشروع عمل ہے۔
➌ استسقاء دو رکعت نماز ہے اور نماز عید کی طرح اس کی رکعتیں بھی دو عدد مشروع ہیں۔ البتہ یہ استدلال کرنا کہ نماز استسقاء میں بارہ تکبیرات مشروع ہیں، باطل ہے، اس بارے کوئی صریح نص موجود نہیں۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز استسقاء کے لیے عید گاہ یا کسی کھلے میدان کا رخ کرنا مشروع فعل ہے اور ان احادیث میں ان لوگوں کے موقف کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ نماز استسقاء کے لیے عید گاہ وغیرہ کا رخ کرنا درست نہیں۔
➋ نماز استسقاء کے لیے پراگندہ لباس میں نکلنا، خشوع و خضوع اختیار کرنا اور آہ و زاری کرنا مشروع عمل ہے۔
➌ استسقاء دو رکعت نماز ہے اور نماز عید کی طرح اس کی رکعتیں بھی دو عدد مشروع ہیں۔ البتہ یہ استدلال کرنا کہ نماز استسقاء میں بارہ تکبیرات مشروع ہیں، باطل ہے، اس بارے کوئی صریح نص موجود نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1406]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1406 in Urdu
عباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري