صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
901. (668) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا حَوَّلَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ؛ لِأَنَّ الرِّدَاءَ ثَقُلَ عَلَيْهِ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو پلٹتے وقت دائیں جانب کو بائیں طرف اور بائیں جانب کو دائیں طرف اس لئے کیا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بھاری تھی تو آپ کے لئے اس کے اوپر والے حصّے کو نیچے کرنا مشکل ہوگیا تھا
حدیث نمبر: 1415
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: " اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَهَا بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهَا أَعْلاهُ، فَلَمَّا ثَقُلَتْ عَلَيْهِ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقَيْهِ" . قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ: عَلَى عَاتِقِهِ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ دھاری دار چادر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نچلے حصّے سے پکڑ کر اُسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا لیکن جب وہ آپ پر بھاری ہوگئی (اور آپ ارادے کے مطابق اس کو اوپر نیچے نہ کر سکے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے کندھوں پر ہی پلٹ لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، 1023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، ومالك فى (الموطأ) برقم: 646، وابن الجارود فى "المنتقى"، 281، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، 1410، 1414، 1415، 1420، 1424، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1415 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1415
فوائد:
➊ بارش طلبی کی دعا کے دوران امام اور لوگوں کا اپنی چادر کو پلٹنا (دائیں ہاتھ سے چادر کا نچلا بایاں کنارہ اور بائیں ہاتھ سے چادر کا دایاں نچلا کنارہ پکڑ کر چادر پلٹنا) کہ چادر کا نچلا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے چلا جائے، اور اندرونی حصہ باہر اور بیرونی حصہ اندر کی جانب چلا جائے، مستحب فعل ہے۔
➋ اگر چادر بھاری ہو اور ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پلٹنا مشکل ہو تو اسے کندھوں پر پلٹنا ہی مستحب و مشروع ہے۔
➊ بارش طلبی کی دعا کے دوران امام اور لوگوں کا اپنی چادر کو پلٹنا (دائیں ہاتھ سے چادر کا نچلا بایاں کنارہ اور بائیں ہاتھ سے چادر کا دایاں نچلا کنارہ پکڑ کر چادر پلٹنا) کہ چادر کا نچلا حصہ اوپر اور اوپر کا حصہ نیچے چلا جائے، اور اندرونی حصہ باہر اور بیرونی حصہ اندر کی جانب چلا جائے، مستحب فعل ہے۔
➋ اگر چادر بھاری ہو اور ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پلٹنا مشکل ہو تو اسے کندھوں پر پلٹنا ہی مستحب و مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1415]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1415 in Urdu
عباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري