🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
993. (42) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قِيَامِ الْإِمَامِ عَلَى مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْمَأْمُومِينَ لِتَعْلِيمِ النَّاسِ الصَّلَاةَ
مقتدیوں کو نماز سکھانے کے لئے امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑے ہونا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1521
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلٍ أَنَّهُ جَاءَهُ نَفَرٌ يَتَمَارَوْنَ فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ وَمَنْ عَمِلَهُ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمِلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ قَامَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلانَةَ، قَالَ: إِنَّهُ لَيُسَمِّيهَا يَوْمَئِذٍ، وَنَسِيتُ اسْمَهَا:" أَنْ مُرِي غُلامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمِ النَّاسَ عَلَيْهَا"، فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلاثَ الدَّرَجَاتِ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ، وَرَكَعَ النَّاسُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَنَزَلَ الْقَهْقَرِيَّ، ثُمَّ سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَتَعَلَّمُوا صَلاتِي"
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے پاس کچھ لوگ آئے جو اس بات میں جھگڑ رہے تھے کہ منبر نبوی کس لکڑی سے بنا ہے؟ اور اسے کس شخص نے بنایا تھا؟ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آگاہ رہو، اللہ کی قسم! مجھے خوب علم ہے کہ یہ کس لکڑی سے بنا ہے اور اسے کس نے بنایا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن اس پر کھڑے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کی طرف پیغام بھیجا۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اُس دن اُس عورت کا نام ذکر کیا تھا مگر میں بھول گیا ہوں کہ وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لئے سیڑھیوں والا منبر بنا دے تاکہ میں اُس پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کروں۔ اُس نے غابہ مقام کے جھاؤ کی لکڑی سے یہ تین سیڑھیاں بنا دیں۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہا: (اور نماز شروع کر دی) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (صفیں بنا کر) تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منبر ہی پر) رکوع کیا اور لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں نیچے اُتر آئے، پھر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ منبر پر چڑھے حتّیٰ کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں نے یہ عمل اس لئے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز (کا طریقہ) سیکھ لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 377، 448، 917، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 544، وابن الجارود فى "المنتقى"، 342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1521، 1522، 1779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2142، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 738، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1080، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23263، والحميدي فى (مسنده) برقم: 955»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1521 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1521
فوائد:
➊ خطبہ وغیرہ کے لیے منبر کا استعمال مستحب ہے اور دورانِ خطبہ خطیب کا بلند مقام یعنی منبر وغیرہ پر کھڑے ہونا مستحب فعل ہے۔
➋ نماز میں معمولی فعل جائز ہے۔ دو تین قدم آگے پیچھے چلنے سے نماز باطل نہیں ہوتی لیکن بلا ضرورت یہ عمل نہ کرنا بہتر ہے۔ اور ضرورت کے تحت اس فعل میں کوئی کراہت نہیں ہے۔
➌ نماز میں فعلِ کثیر اگر وقفے سے کیا جائے، جیسے دورانِ نماز کئی قدم آگے پیچھے اٹھائے گئے، تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے اور منبر سے اترتے وقت یہ فعل بار بار دہرایا تھا۔ یہ عمل بالجملہ کثیر تھا لیکن منفرد طور پر یہ فعل متفرق ہونے کی وجہ سے قلیل ہے۔
➍ ضرورت کے وقت امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ لیکن بلا حاجت امام کا مقتدیوں سے اور مقتدیوں کا امام سے بلند مقام پر کھڑے ہونا مکروہ ہے۔ اور اگر یہ عمل لوگوں کو نماز کی تعلیم دینے کی خاطر ہو تو مستحب ہے۔
➎ نماز میں مقتدیوں کو افعالِ نماز کی تعلیم دینا صحتِ نماز میں نقص پیدا نہیں کرتا۔ [شرح النووي: 5/34]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1521]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1521 in Urdu