صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1011. (60) باب الأمر بالمحاذاة بين المناكب والأعناق فى الصف.
صف بندی میں کندھوں اور گردنوں کو برابر رکھنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1545
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، نا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خِلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ" . قَالَ مُسْلِمٌ: يَعْنِي النَّقَدَ الصِّغَارَ، النَّقَدُ الصِّغَارُ: أَوْلادُ الْغَنَمِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صفوں کو خوب ملاؤ اور صفوں کو قریب قریب رکھو اور اپنی گردنوں کو برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، بلاشبہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صفوں میں خالی جگہ سے داخل ہوجاتا ہے گویا کہ وہ بکری کا بچّہ ہو۔“ جناب مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ”الخذف“ سے مراد بکری کا بچّہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1545، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2166، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 814، وأبو داود فى (سننه) برقم: 667، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5260، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12767»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1545 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1545
فوائد:
➊ نماز باجماعت کے دوران صفوں کی درستی، انہیں ملانا اور صفوں میں خالی جگہ نہ چھوڑنا لازمی امر ہے۔ لہذا نمازیوں پر لازم ہے کہ وہ صفوں کو خوب اچھے طریقے سے ملائیں کہ پاؤں سے پاؤں اور کندھے سے کندھے ملے ہوں اور یہ کیفیت تمام قیام میں ہونی چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں ایک تو صفوں کو ملانا معیوب سمجھا جاتا ہے، پھر اگر احادیث مسنونہ سنانے کے بعد مقتدیوں میں تھوڑی سی تبدیلی واقع ہو بھی تو پہلی رکعت ہی میں صف بندی کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہی صف شکنی اور بے ترتیبی شروع ہو جاتی ہے۔
➋ ◈ امام یمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ احادیث صف شکنی کی وعید پر دلیل ہیں کہ صفوں کو ملانا واجب ہے۔ [سبل السلام: 337/2]
➊ نماز باجماعت کے دوران صفوں کی درستی، انہیں ملانا اور صفوں میں خالی جگہ نہ چھوڑنا لازمی امر ہے۔ لہذا نمازیوں پر لازم ہے کہ وہ صفوں کو خوب اچھے طریقے سے ملائیں کہ پاؤں سے پاؤں اور کندھے سے کندھے ملے ہوں اور یہ کیفیت تمام قیام میں ہونی چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں ایک تو صفوں کو ملانا معیوب سمجھا جاتا ہے، پھر اگر احادیث مسنونہ سنانے کے بعد مقتدیوں میں تھوڑی سی تبدیلی واقع ہو بھی تو پہلی رکعت ہی میں صف بندی کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہی صف شکنی اور بے ترتیبی شروع ہو جاتی ہے۔
➋ ◈ امام یمانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ احادیث صف شکنی کی وعید پر دلیل ہیں کہ صفوں کو ملانا واجب ہے۔ [سبل السلام: 337/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1545]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1545 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري