صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1066. (115) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَخْفِيفِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لِبَعْضِ الْمَأْمُومِينَ بَعْدَمَا قَدْ نَوَى إِطَالَتَهَا.
کسی مقتدی کو کوئی ضرورت پیش آنے پر امام کا مختصر نماز پڑھانا جبکہ وہ پہلے لمبی نماز پڑھانے کی نیت کر چکا ہو
حدیث نمبر: 1610
نا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاتِي، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ وَجْدِ أُمَّهِ مِنْ بُكَائِهِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نماز شروع کرتا ہوں تو میرا ارادہ طویل نماز پڑھانے کا ہوتا ہے، پھر میں بچّے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف ہوتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 709، 710، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 470، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1609، 1610، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 376، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4111، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1875، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12249»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1610 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1610
فوائد:
➊ مقتدیوں کے ساتھ نرمی کرنا اور ان کے مصالح کا خیال رکھنا مشروع ہے اور انہیں مشقت میں ڈالنا جائز نہیں۔
➋ عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
➌ بچوں کو مسجد میں لے جانا جائز ہے۔ [شرح النووی: 2/218]
➍ کسی عارضے کی وجہ سے نماز میں تخفیف کرنا مباح ہے۔
➎ نماز کے دوران غیر اختیاری طور پر کسی خیال کا آنا نماز کے لیے نقصان دہ نہیں، تاہم اس کی بنا پر نماز سے توجہ ہٹا لینا درست نہیں۔ [شہباز حسن]
➊ مقتدیوں کے ساتھ نرمی کرنا اور ان کے مصالح کا خیال رکھنا مشروع ہے اور انہیں مشقت میں ڈالنا جائز نہیں۔
➋ عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
➌ بچوں کو مسجد میں لے جانا جائز ہے۔ [شرح النووی: 2/218]
➍ کسی عارضے کی وجہ سے نماز میں تخفیف کرنا مباح ہے۔
➎ نماز کے دوران غیر اختیاری طور پر کسی خیال کا آنا نماز کے لیے نقصان دہ نہیں، تاہم اس کی بنا پر نماز سے توجہ ہٹا لینا درست نہیں۔ [شہباز حسن]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1610]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1610 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري