صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1080. (129) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الصَّلَاةِ جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي قَدْ جُمِعَ فِيهِ
جس مسجد میں جماعت ہوچکی ہو، اُس میں نماز باجماعت ادا کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q1632
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ فُرَادَى إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةٌ مَرَّةً.
اُن لوگوں کے دعویٰ کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ جب مسجد میں ایک مرتبہ جماعت ہوجائے تو (بعد میں آنے والے) اکیلے اکیلے نماز پڑھیں گے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: Q1632]
حدیث نمبر: 1632
نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكَلاعِيَّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، نا سُلَيْمَانُ النَّاجِي ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّكُمْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا؟" قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى مَعَهُ . هَذَا حَدِيثُ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِي
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اُس وقت (مسجد میں) آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اجر و ثواب کے لئے اس پر صدقہ کرے گا؟“ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے اُس شخص کے ساتھ نماز پڑھی۔ یہ ہارون بن اسحاق کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 364، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1632، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2397، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 763، وأبو داود فى (سننه) برقم: 574، والترمذي فى (جامعه) برقم: 220، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11175، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2174، والطبراني فى (الصغير) برقم: 606، 665»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1632 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1632
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جس مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام ہو چکا ہو، وہاں دوبارہ جماعت کرانا جائز ہے۔ اور یہ نماز سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے صدقہ ہے، کیونکہ تنہا نماز پڑھنے سے ایک نماز اور نماز باجماعت ادا کرنے سے ستائیس نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔
➋ مفترض (فرض ادا کرنے والے) کے پیچھے متنفل (نفل ادا کرنے والے) کی نماز جائز ہے اور فرض اور نفل پڑھنے والے مل کر باجماعت کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جس مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام ہو چکا ہو، وہاں دوبارہ جماعت کرانا جائز ہے۔ اور یہ نماز سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے صدقہ ہے، کیونکہ تنہا نماز پڑھنے سے ایک نماز اور نماز باجماعت ادا کرنے سے ستائیس نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔
➋ مفترض (فرض ادا کرنے والے) کے پیچھے متنفل (نفل ادا کرنے والے) کی نماز جائز ہے اور فرض اور نفل پڑھنے والے مل کر باجماعت کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1632]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1632 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري